سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایگزیکٹ کے مبینہ جعلی ڈگری کیس میں عائشہ شعیب، شعیب احمد شیخ اور دیگر ملزمان کی بریت کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے—ایف آئی اے—کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کر دی ہیں۔جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پیر، 3 اگست کو ایف آئی اے کی سات درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے مختصر حکم کے ذریعے تمام درخواستیں خارج کر دیں، جبکہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ ریاست پاکستان نے یہ درخواستیں ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے توسط سے دائر کی تھیں۔ درخواستوں میں ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب احمد شیخ، ان کی اہلیہ عائشہ شعیب، ویون کرسٹوفر، عمران احمد خان، عدنان صبور، عاطف حسین اور دیگر ملزمان کی بریت کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا یہ وہی مبینہ جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمہ ہے جس میں مرکزی ملزم پہلے ہی بری ہو چکا ہے؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مقدمے میں مرکزی ملزم قرار دیے گئے شخص کو بری کیا جا چکا ہے تو پھر خاتون عائشہ شعیب کی بریت کے خلاف سرکاری اپیل دائر کرنے کی کیا بنیاد باقی رہ جاتی ہے؟ملزمان کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایگزیکٹ کیس ہے اور اس سے متعلق مقدمات میں تمام ملزمان بری ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے مجموعی طور پر سات درخواستیں دائر کی گئی ہیں اور تمام درخواستیں مقررہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی تھیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد اللہ خان عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے درخواستیں تاخیر سے دائر کیے جانے کا اعتراف کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ اعلیٰ حکام سے منظوری حاصل کرنے میں وقت لگنے کے باعث تاخیر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض درخواستیں 29 دن جبکہ بعض 45 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق مقدمے میں چار ملزمان پہلے اور تین ملزمان بعد میں بری ہوئے تھے۔
جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے کی تمام سات درخواستیں مقررہ مدت کے بعد دائر کی گئی ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ کسی ملزم کو ٹرائل کورٹ یا متعلقہ عدالت سے بری کیے جانے کے بعد اسے قانون کی نظر میں ’’دوہری معصومیت‘‘ حاصل ہو جاتی ہے۔ فوجداری قانون میں ملزم کو مقدمے کے آغاز سے ہی بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم بریت کے فیصلے کے بعد اس قانونی مفروضے کو مزید تقویت مل جاتی ہے۔ ایسی صورت میں بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے استغاثہ کو مضبوط قانونی اور شواہد پر مبنی بنیاد پیش کرنا ہوتی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواستوں کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں کے بجائے مقدمے کے میرٹ پر کیا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان مبینہ طور پر 44 یونیورسٹیوں کے نام پر جعلی ڈگریاں فراہم کر رہے تھے اور ماتحت عدالتوں نے انہیں شواہد کا مکمل جائزہ لینے کے بجائے تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر بری کیا۔
دوسری جانب انور منصور خان نے مؤقف اپنایا کہ حکومت کی اپنی ایس او پیز کے مطابق عدالتی درخواستیں اور اپیلیں مقررہ مدت کے اندر دائر کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی مقدمے میں اپیل بروقت دائر نہ کی جائے تو تاخیر کے ذمہ دار سرکاری حکام کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایف آئی اے کی جانب سے دائر تمام سات درخواستیں خارج کر دیں۔
ایگزیکٹ کے خلاف مبینہ جعلی ڈگریوں کا معاملہ مئی 2015 میں بین الاقوامی میڈیا کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں کمپنی پر فرضی تعلیمی اداروں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے نام سے آن لائن ڈگریاں اور اسناد فروخت کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ ان الزامات کے بعد ایف آئی اے نے کمپنی کے دفاتر پر چھاپے مارے، ریکارڈ اور کمپیوٹرز قبضے میں لیے اور متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔ ایگزیکٹ انتظامیہ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔اس کیس کے مختلف حصوں میں شعیب شیخ، عائشہ شعیب، کمپنی کے ڈائریکٹرز اور انتظامی اہلکاروں کے خلاف دھوکا دہی، جعل سازی، جعلی تعلیمی اسناد کی تیاری اور فروخت سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔سندھ ہائی کورٹ نے مارچ 2023 میں شعیب شیخ اور کمپنی کے دو ڈائریکٹرز کی بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ استغاثہ نے مقدمہ شروع ہونے کے تقریباً آٹھ برس بعد بھی ایسا مواد پیش نہیں کیا جس سے ملزمان کی سزا کا امکان ظاہر ہوتا ہو۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ ریاست نے بعض بنیادی الزامات ثابت نہ کر سکنے کا اعتراف کیا تھا۔اسلام آباد میں چلنے والے کیس میں جولائی 2018 میں عائشہ شعیب سمیت تین ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا تھا، جبکہ شعیب شیخ اور دیگر افراد کو مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائی گئی تھیں۔سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کے بعد عائشہ شعیب اور دیگر متعلقہ ملزمان کی بریت برقرار رہے گی۔ تاہم عدالت کا تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ اپیلیں صرف مقررہ مدت کے بعد دائر ہونے کی بنیاد پر خارج کی گئیں یا عدالت نے مقدمے کے شواہد اور میرٹ سے متعلق بھی کوئی حتمی آبزرویشن دی ہے۔
180