صحافی سہراب برکت کوپیکا، کے تحت تازہ گرفتاری کے بعد 10 روزہ حراست کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے صحافتی آزادی کے حامی حلقوں میں ایک بار پھر اس تشویش کو جنم دیا ہے کہ سائبر کرائم قوانین کو صحافیوں کے خلاف مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے۔سہراب برکت کو 5 جون 2026 کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری سے قبل انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے احتجاج سے متعلق رپورٹس شائع کی تھیں۔ انہیں 15 جون کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔فرسٹ انفارمیشن رپورٹ، یعنی ایف آئی آر، کے مطابق 5 جون کو اپ لوڈ کی گئی ایک یوٹیوب ویڈیو میں مبینہ طور پر غلط اور گمراہ کن معلومات شامل تھیں۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ویڈیو میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، کے بیانیے کو فروغ دیا گیا اور یہ مواد عوامی بدامنی، خوف، افراتفری اور انتشار پیدا کرنے کا سبب بن سکتا تھا۔یہ مقدمہ پیکا کی ان دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جو غلط یا گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو جرم قرار دیتی ہیں۔ اگر سہراب برکت پر جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔سہراب برکت کی یہ تازہ گرفتاری ان کی سابقہ حراست سے رہائی کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل وہ 90 دن سے زائد عرصے تک حراست میں رہے تھے، جس دوران ان کے خلاف پیکا کے تحت متعدد ایف آئی آرز، عدالتی کارروائیاں اور ضمانت کی درخواستیں زیرِ سماعت رہیں۔ان کی سابقہ حراست پر مقامی اور بین الاقوامی صحافتی آزادی کی تنظیموں نے بھی توجہ دی تھی، جنہوں نے صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف فوجداری کارروائیوں کے مسلسل استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔اگرچہ جون میں کی گئی گرفتاری ایک الگ مقدمے سے متعلق ہے، تاہم میڈیا رائٹس تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سیاسی طور پر حساس معاملات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو درپیش قانونی دباؤ کو مزید نمایاں کرتا ہے۔اس کیس نے پیکا کے دائرہ کار اور اس کے اطلاق سے متعلق بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے، خاص طور پر ان دفعات کے حوالے سے جو آن لائن مواد اور غلط معلومات سے متعلق ہیں۔صحافتی تنظیموں اور ڈیجیٹل رائٹس گروپس کا مؤقف ہے کہ وسیع اور مبہم انداز میں لکھی گئی دفعات کو رپورٹرز، تبصرہ نگاروں اور آزاد میڈیا اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حکام اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نقصان دہ آن لائن مواد سے نمٹنے اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے یہ قانون ضروری ہے۔سہراب برکت کی ضمانت پر رہائی قانونی کارروائی کے خاتمے کا مطلب نہیں، تاہم یہ اس مقدمے میں تازہ ترین پیش رفت ہے جسے پاکستان بھر کے صحافی اور میڈیا فریڈم کے حامی قریب سے دیکھ رہے ہیں
175
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل