jaali asar o sokh social media ki tasweeri dhons 130

امریکی ویزے کے خواہشمند صحافیوں کی سوشل میڈیا اسکریننگ کا فیصلہ۔۔۔۔

امریکی محکمہ خارجہ نے امریکا میں کام کرنے کے لیے ویزا حاصل کرنے کے خواہش مند غیر ملکی صحافیوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قدامت پسند امریکی ویب سائٹ ڈیلی سگنل نے ایک اندرونی سرکاری یادداشت کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پہلے سے نافذ سوشل میڈیا اسکریننگ پروگرام کو اب غیر ملکی میڈیا نمائندوں تک بھی توسیع دے دی ہے۔اس نئی پالیسی کے تحت صحافیوں سمیت مختلف اقسام کے ویزا درخواست گزاروں کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پبلک رکھنے ہوں گے تاکہ امریکی حکام ان کا جائزہ لے سکیں۔ اسکریننگ کا دائرہ کینیڈا اور میکسیکو سے مخصوص ورک ویزا پر امریکا آنے والے بعض افراد تک بھی بڑھایا جا رہا ہے۔اگرچہ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس رپورٹ کا لنک شیئر کیا تاہم محکمہ خارجہ نے اندرونی دستاویزات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس پالیسی کی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ “آن لائن پریزنس ویٹنگ” امریکی ویزا قوانین کے مطابق درخواست گزاروں کی اہلیت جانچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ان کے بقول امریکا میں داخلے کے خواہش مند ہر غیر ملکی کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک جانچ کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ امریکی قوانین، اپنے ویزے کی شرائط کا احترام کرے گا اور امریکی قومی سلامتی، عوامی تحفظ یا قومی مفادات کے لیے خطرہ نہیں بنے گا۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ غیر ملکی صحافیوں کے لیے سوشل میڈیا اسکریننگ کی نئی پالیسی کب سے نافذ ہوگی تاہم اسے ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے غیر ملکی صحافیوں، طلبہ اور دیگر ویزا ہولڈرز کے امریکا میں قیام کی مدت سے متعلق قوانین مزید سخت کیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں