سندھ ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم رفتار کے سی ای او فرحان ملک اور پروڈیوسر حافظ منہاج افضل کے خلاف طاقت کے استعمال سے روک دیا۔جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس عبدالحمید بھرگڑی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے طلبی کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔درخواست گزاروں کے وکیل معیز جعفری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ این سی سی آئی اے نے پیپلز لائرز فورم کے طارق محمود خٹک کی شکایت پر فرحان ملک اور حافظ منہاج افضل کو 20 اگست کو طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ نوٹس بدنیتی کی بنیاد پر جاری کیا گیا اور قانون کے تقاضوں کے مطابق بھی نہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کو خدشہ ہے کہ این سی سی آئی اے کے سامنے پیشی کے موقع پر انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔معیز جعفری ایڈووکیٹ کے مطابق این سی سی آئی اے کے انویسٹی گیشن آفیسر طارق حسین نے جس شکایت کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا، اس کی مکمل تفصیلات سے بھی درخواست گزاروں کو آگاہ نہیں کیا گیا۔وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ نوٹس اور شکایت میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ رفتار کی متعلقہ ڈاکیومینٹری کے کس حصے یا مواد پر طارق محمود خٹک کو اعتراض ہے۔درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ مبہم اور مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی نوٹس کے تحت ان کے خلاف کسی قسم کی جبری کارروائی یا گرفتاری سے این سی سی آئی اے کو روکا جائے۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد این سی سی آئی اے کو فرحان ملک اور حافظ منہاج افضل کے خلاف طاقت کے استعمال سے روکتے ہوئے ایجنسی اور متعلقہ تفتیشی افسر سے جواب طلب کرلیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
73
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل