157

حکومت سندھ کی نااہلی، صحافیوں کو الاٹ زمین ترقیاتی کاموں سے محروم۔۔۔

سندھ حکومت کے محکمہ لوکل باڈیز ، لیاری ڈیویلپمنٹ اتھارٹی(ایل ڈی اے) اور ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی نااہلی، صحافی کے بلاک 68 سمیت دیگر بلاکس میں ترقیاتی کام نہیں کروائے گئے۔۔ سرکاری بیوروی کریسی کے حیلے بہانے اور سیاسی رہنماؤں کی بیان بازی کے سوا کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔ ترقیاتی کاموں میں تاخیر سے صحافیوں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ اس سے بڑی ناکامی کیا ہوگی پندرہ بیس سال میں ایل ڈی اے اور ایم ڈی اے کوئی ایک ترقیاتی اسکیم مکمل نہیں کرسکی۔ ستم ظریفی یہ کہ اس سال ایل ڈی اے نے بلاک 68 سمیت صحافی سوسائٹیز کے لیے ایک بھی نئی اسکیم نہیں رکھی کیونکہ پرانی اسکیموں پر کام مکمل ہی نہیں کیے گئے جبکہ بعض اسکیموں پر کام شروع تک نہیں کیا گیا۔ پرانی اسکیمیں پھر سے ریوائز کر کے اس سال کی اسکیموں میں ڈال دی گئیں۔ ذرائع بتا رہے ہیں ٹینڈر کے معاملے میں بھی بندر بانٹ کا خدشہ ہے۔ سیاسی محاذ اور سرکاری بیوروکریسی میں کمیشن اور مال کی کشمکش نے ہاکسے اسکیم 42 کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ ذرائع بتارہے ہیں جہاں سے پریشر آتا ہے وہاں جلد ترقیاتی کام ہو جاتے ہیں اس کی زندہ مثال ہے ایڈووکیٹ جنرل سوسائیٹی اور سیکریٹریز ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جو صحافیوں کے بلاک 68 کے بعد الاٹ کی گئیں لیکن باؤنڈر وال ، اندر سڑکوں کا جال، سیوریج کا نظام بنانے سمیت ترقیاتی کام تیزی سے کیے گئے۔ لیکن صحافیوں کو وزارت بلدیات سندھ زبانی وعدوں کے لولی پوپ پر ٹرخا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں بلاک 68 میں نالہ کو پختہ کرنے سمیت چھوٹے چھوٹے ترقیاتی کاموں کی اسکیم کا شوشہ چھوڑا گیا تھا لیکن نیا مالی سال شروع ہونے کے باوجود ترقیاتی کام تو درکنار ٹینڈر بھی مکمل نہیں ہو پائے۔ سندھ حکومت کی بیورکریسی پر گرفت اور پارٹی میں مال کی بندر بانٹ کی روک تھام کی گرفت نہ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایم ڈی اے اور ایل ڈی اے میں صحافیوں کی سوسائٹیز کو بھی ترقیاتی کاموں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر ، صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی تقاریر میں سندھ بالخصوص کراچی میں ترقیاتی کاموں پر زور دیتے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے نیچے کی لیڈرشپ اور سندھ کی بیوروکریسی ان کے ان دعووں اور وعدوں کو ناکام بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں