ورکنگ جرنلسٹس فورم کے بانی و مرکزی صدر میاں خرم شہزاد، مرکزی جنرل سیکرٹری ساجد احمد، مرکزی مجلسِ عاملہ، صوبائی و ضلعی عہدیداران اور فورم کے تمام اراکین نے حیدرآباد کے سینیئر صحافی عمران ملک کو حیدرآباد میئر آفس کی کوریج سے روکنے، انہیں مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر ایک کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم کی مرکزی قیادت نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، جو عوام تک درست، بروقت اور غیرجانبدار معلومات پہنچانے کے لیے دن رات اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی صحافی کو سرکاری یا عوامی ادارے کی کوریج سے روکنا، اس پر دباؤ ڈالنا، ہراساں کرنا یا دھمکیاں دینا نہ صرف آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی روح کے بھی منافی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی صحافی کو صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کی وجہ سے دباؤ، دھمکیوں یا رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ نہ صرف صحافتی برادری بلکہ جمہوری اقدار کے لیے بھی تشویش ناک امر ہے۔ ایسے واقعات میڈیا نمائندگان میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں اور آزاد صحافت کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں، جس کی کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے سندھ حکومت، کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد، میئر حیدرآباد، آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس ایس پی حیدرآباد، محکمہ اطلاعات سندھ، انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں اور دیگر ذمہ دار حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ نوٹس لیا جائے، ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ سینیئر صحافی عمران ملک کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی خوف یا دباؤ کے بغیر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ میاں خرم شہزاد نے واضح کیا کہ صحافیوں کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق سے محروم کرنے یا انہیں فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی ہر کوشش ناقابلِ قبول ہے۔ اگر اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو اس سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی اور آزادیٔ صحافت مزید خطرات سے دوچار ہوگی۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، پریس کلبز، یونین آف جرنلسٹس، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں اور صحافیوں کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور آئینی حقوق کے دفاع کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ WJF کی مرکزی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ورکنگ جرنلسٹس فورم ہر صحافی کے ساتھ کھڑا ہے اور صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت، تحفظ اور پیشہ ورانہ وقار پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ فورم ہر سطح پر قانونی، اخلاقی اور جمہوری انداز میں صحافی برادری کی نمائندگی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
309
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل