صحافی بلال غوری جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل 54

صحافی بلال غوری جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے ہفتے کو صحافی بلال غوری کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔بلال غوری کو پانچ ستمبر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری سے متعلق مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن‘ معلومات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔بعدازاں مقامی عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا، جس میں مزید دو روز کی توسیع کی گئی۔ہفتے کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر بلال غوری کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کیس کی سماعت کی۔بلال غوری کی جانب سے وکیل عمران شفیق اور رضا ودود قریشی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کا آغاز ہوا تو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ملزم کے مزید پانچ روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر نے موقف اپنایا کہ ملزم سے برآمد ہونے والی ڈیوائسز کا فرانزک کروانا ہے، جس پر صحافی کے وکیل عمران شفیق نے کہا کہ ’تمام ڈیوائسز تو ان کے پاس ہیں، فرانزک کے لیے ملزم کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ این سی سی آئی اے سے پوچھا جائے کہ دو روز میں ریمانڈ میں کیا کیا ہے؟‘جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ این سی سی آئی اے ریمانڈ کے لیے کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتا سکی، اس سے قبل دو دن کے ریمانڈ میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی تھی۔بعد ازاں عدالت نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے فوری سماعت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے استغاثہ کو نوٹس جاری کر دیا اور بلال غوری کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت 14 ستمبر کے لیے مقرر کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں