اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف سندھ (سجاس) کے صدر محمود ریاض، عہدیداروں اور مجلس عاملہ سمیت تمام ممبران نے اپنے مشترکہ بیان میں سجاس کے جنرل سیکریٹری اور کراچی پریس کلب کے رکن و کے ٹی این نیوز کے اسپورٹس اینکر پرسن مجاہد علی سولنگی کے گھر چوری کی واردات کی بھر پور مذمت کی ہے، محمود ریاض کا کہنا ہے کہ چوروں نے آج بروز جمعرات 25 جون کو صبح سویرے کراچی کے علاقے اختر کالونی میں رہائش پزیر کے ٹی این نیوز کے اسپورٹس اینکر پرسن اور سجاس کے جنرل سیکریٹری مجاہد سولنگی کے گھر کا تالا توڑ کر اندر داخل ہوئے اور قیمتی سامان چوری کرکے فرار ہوگئے، متعلقہ محمود آباد پولیس اسٹیشن میں چوری کی واردات کی ایف آئی آر درج کرادی گئی ہے، کراچی میں جرائم پیشہ افراد کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث اب صحافی اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں رہے، محمود ریاض سمیت سجاس کے تمام عہدیداروں و مجلس عاملہ نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر سندھ سید نہال ہاشمی، صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز، انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اور کراچی پولیس چیف سے واقع کا نوٹس لینے، چوروں کی فی الفور گرفتاری اور چوری شدہ سامان کی برآمدگی کا مطالبہ کیا ہے۔ مجلس عاملہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں اسپورٹس جرنلسٹس کے ساتھ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے قبل بھی متعدد اسپورٹس جرنلسٹس اسٹریٹ کرائم کا شکار ہوکر قیمتی اشیاء سے محروم ہوچکے ہیں لیکن آج تک کسی بھی واقع میں ملوث ملزمان کا گرفتار نہ ہونا پولیس کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔۔۔ دریں اثنا کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے کراچی پریس کلب کے ممبر،اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف سندھ (سجاس) کے جنرل سیکریٹری اور نجی ٹی وی کے اسپورٹس اینکر پرسن مجاہد علی سولنگی کے گھر ڈکیتی کی واردات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ صحافی برادری پہلے ہی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران مختلف نوعیت کے خطرات اور دباؤ کا سامنا کرتی ہے، ایسے حالات میں اگر صحافی اپنے گھروں میں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ مجاہد علی سولنگی نہ صرف ایک متحرک اسپورٹس صحافی ہیں بلکہ کراچی پریس کلب کے فعال رکن بھی ہیں، اس لیے اس واقعے نے پوری صحافتی برادری میں تشویش پیدا کی ہے۔کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے صوبائی وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور چوری شدہ سامان کی برآمدگی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی متعلقہ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہ کراچی میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور اسٹریٹ کرائمز کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ صحافی برادری بلاخوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکے۔
260
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل