teen roz azadi sahafat muheem ka aelan 95

عالمی میڈیا کےپاکستانی صحافیوں پر پابندیاں آزادیٔ صحافت پر حملہ ہیں، پی ایف یو جے۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے وفاقی حکومت کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں سے وابستہ پاکستانی میڈیا کارکنوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے جاری کردہ نئے نوٹیفکیشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار کے لیے سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔صحافیوں کی نمائندہ تنظیم کے مطابق نوٹیفکیشن کے تحت غیر ملکی نمائندوں کو پیشگی اجازت کے بغیر مخصوص شہروں سے باہر سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے پاکستانی صحافی بھی متاثرہ علاقوں سے آزادانہ رپورٹنگ نہیں کرسکیں گے۔پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں صحافیوں کے لیے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینا ناممکن ہوجائے گا۔بدھ کو جاری مشترکہ بیان میں پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکریٹری جنرل ارشد انصاری نے نوٹیفکیشن کو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا۔بیان میں کہا گیا، ’’حکومت نے نہ صرف غیر ملکی صحافیوں کو بڑے شہروں کے علاوہ پاکستان کے بیشتر علاقوں کا دورہ کرنے سے روک دیا ہے بلکہ بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ پاکستانی میڈیا کارکنوں کی نقل و حرکت بھی محدود کردی گئی ہے۔ انہیں بھی ان علاقوں میں آزادانہ طور پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔پی ایف یو جے کے رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ ایسی پابندیوں کی موجودگی میں صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں کیسے پوری کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ملک کے مختلف حصوں سے آزادانہ طور پر خبریں جمع کرنے اور رپورٹنگ کرنے کے عمل کو شدید متاثر کریں گے۔یہ بیان حکومت کی جانب سے پاکستان میں غیر ملکی صحافیوں کی نقل و حرکت سے متعلق نئے قواعد متعارف کرائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان قواعد پر میڈیا تنظیموں اور آزادیٔ صحافت کے حامی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے، جنہیں خدشہ ہے کہ ان اقدامات سے بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ متاثر ہوگی۔پی ایف یو جے نے کہا کہ ان پابندیوں سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچے گا اور آزادیٔ صحافت سے متعلق عالمی اشاریوں میں ملک کی پوزیشن مزید کمزور ہوگی۔یونین کے مطابق غیر ملکی صحافیوں اور عالمی میڈیا اداروں سے وابستہ مقامی صحافیوں کی مختلف علاقوں تک رسائی محدود کرنے سے پاکستان کی شفافیت اور جمہوری اقدار سے وابستگی کے بارے میں منفی پیغام جائے گا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ان پابندیوں کے پاکستانی صحافیوں کے روزگار پر بھی منفی معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پی ایف یو جے کے رہنماؤں نے کہا، ’’اگر عالمی میڈیا اداروں کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافی مختلف علاقوں کا دورہ نہیں کرسکیں گے تو وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری نہیں کرپائیں گے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی ملازمتوں سے بھی محروم ہونا پڑسکتا ہے۔پی ایف یو جے نے وفاقی حکومت سے نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری حکومتوں کو صحافیوں کے کام میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے انہیں سہولت فراہم کرنی چاہیے۔تنظیم کی قیادت کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو پی ایف یو جے کے پاس احتجاجی مظاہروں اور ملک گیر احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔پی ایف یو جے کا تازہ بیان صحافتی تنظیموں کی جانب سے ان پابندیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید میں ایک اور اضافہ ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں تک صحافیوں کی رسائی محدود کرنے سے آزادانہ کوریج اور عوام کی معلومات تک رسائی متاثر ہوگی۔وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال پی ایف یو جے کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں