192

رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی ڈیلرمیڈیا مالکان بنے ہوئے ہیں، پی یوجے۔۔۔۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے میڈیا اداروں میں خوفناک چھانٹیوں ، کٹوتیوں ،اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف بھرپور احتجاجی لائحہ عمل کرنے اور تحریک چلانے کے عزم اعادہ کرتے ہوئے میڈیا مالکان اور میڈیا انڈسٹری انتظامیہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف ، جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی ،سینئر نائب صدر خرم پاشا، نائب صدر شیر علی خالطی، جوائنٹ سیکرٹری خالد رشید، طلال اشتیاق، خزانچی جواد حسن گل، اور ایگزیکٹو کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس وقت میڈیا انڈسٹری میں ایک طرف حکومتی اداروں کی طرف سے آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کا قتل جاری ہے اور دوسری طرف میڈیا مالکان کی طرف سے صحافیوں اور کارکنوں کا معاشی قتل عام کا سلسلہ بھی اپنے عروج پر ہے ۔ دنیا نیوز کے میڈیا اداروں لاہور نیوز ، روزنامہ نامہ دنیا اور دنیا نیوز میں درجنوں ملازمین کو دو سے تین ماہ کی برطرفی کے نوٹسز جاری ہو چکے ہیں جبکہ ملازمین کو انتظامیہ کے کارندوں کے ہاتھوں بھرے نیوز روم میں سینئر صحافیوں کی کھلے عام تذلیل کروائی جاتی ہے ۔ جس پر صحافی مجبور ہو کر اپنی عزت بچانے کے لئے نوکری چھوڑ جانے پر مجبور ہورہے ہیں جبکہ یہ کارنامہ انجام دینے والے ظالم کارندے میڈیا مالک کےمزید نزدیک ہو رہے ہیں ۔اسی لئے اس افسوسناک واقعے کے بعد ذمہ دار انتظامی افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی ۔ پی یوجے کے صدر نعیم حنیف اور جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا کہ اس وقت آج نیوز میں تین سے چار ماہ کی تنخواہیں زیر التوا ہیں ۔ جو انتہائی شرمناک اور معاشی قتل عام کی بدترین مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کے اس التوا کے معاملے کا سخت نوٹس لینا پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹ کی ذمہ داری ہے مگر افسوس اس معاملہ پر ابھی تک کوئی سنجیدہ نوٹس اور کارروائی نہیں کی گئی ۔ پی یوجے کی ایگزیکٹو کونسل نے آج نیوز میں فوری طور پر تمام تنخواہیں ادا کرنے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں تمام ملازمین کو بقایا تمام تنخواہیں آج نیوز کے اشتہارات سے ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ پی یوجے نے اس معاملہ میں نیوز ون کی انتظامیہ کی بھی شدید مذمت کی جہاں کونسل آف کمپلینٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ابھی تک سینئر صحافی سعید لودھی ، منور بٹ اور میاں فیصل ریاض کے بقایا جات ادا نہیں کیے گئے ۔ صدر نعیم حنیف اور جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا کہ نیوز ون کی انتظامیہ کا یہ اقدام ہائیکورٹ کے فیصلے کی بھی واضح خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے میڈیا انڈسٹری میں ایسے میڈیا مالکان وارد ہوئے ہیں جن کا براہ راست میڈیا انڈسٹری سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ان نئے نئے میڈیا مالکان میں سے بیشتر پراپرٹی ڈیلر اور رئیل اسٹیٹ سے آئے ہیں اور یہ اپنے زمینوں اور ٹائون کے پراجیکٹ کے تحفظ کے لئے میڈیا انڈسٹری کو بطور ہتھیار اور ڈھال استعمال کر رہے ہیں ۔ زمینوں پر قبضہ مافیا سرگرم ہے جس کی باز گشت کبھی پراپرٹی ٹائیکون کی صورت میں اور کبھی سیلاب میں نجی ہاؤسنگ سکیموں کو بچانے اور عوام کی بستیوں کو دریا برد کرنے کی صورت میں سنائی دیتی ہے ۔ یہ میڈیا مالکان اپنے پراپرٹی پراجیکٹ کے حوالے سے جیسے ہی یہ مشکل وقت سے نکلتے ہیں تو میڈیا سے منسلک صحافیوں اور کارکنوں کو نوکریوں سے نکالتے اور ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کرتے ہیں۔ پی یوجے کی قیادت نے خبردار کیا کہ اب میڈیا کارکنوں میں لاوا پک رہا ہے اس لئے پی یوجے اس حوالے سے ایک بڑا احتجاج کرنے اور ان اداروں کا گھیراؤ کرنے کا لائحہ عمل دے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پی یوجے ایسے قانون شکن میڈیا مالکان کے خلاف عدالت کا دروازے بھی کھٹکھٹائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں