141

حکومتی لون و ہاؤسنگ اسکیموں میں صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز۔۔

صحافیوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ، قائمہ کمیٹی نے شفاف نظام کا مطالبہ کردیا۔۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے مختلف شہروں میں صحافیوں کے لیے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے زیر التوا معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو شفاف اور تیز رفتار طریقہ کار اپنانے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں سے متعلق مختلف مسائل بھی زیر بحث آئے۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ اہل صحافیوں کو ان کا جائز حق بروقت ملنا چاہیے اور الاٹمنٹ کے تمام مراحل میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر مکمل کیے جائیں۔کمیٹی نے وزارت اطلاعات اور متعلقہ اداروں سے آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔قائمہ کمیٹی نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو پلاٹس دینے کے معاملے پر سینیٹر وقار مہدی، سینیٹر عبدالشکور اور سینیٹر جان محمد پر مشتمل تین رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی، جو تین دن میں رپورٹ جبکہ سات دن میں پیش رفت سے متعلق سفارشات پیش کرے گی اجلاس کے دوران سینیٹر پرویز رشید نے صحافیوں کو وزیراعظم کی قرضہ اسکیم میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی، جبکہ قائمہ کمیٹی نے ہاؤسنگ کوٹہ میں اضافے اور صحافیوں کے ہیلتھ کارڈ کے مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت جاری کی۔کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں