سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اجلاس میں بلھے شاہ کی شخصیت پر بننے والی فلم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بلھے شاہؒ کے نام سے ایسی فلم نہیں آنی چاہیے تھی۔ فلم کے لیے ’بلھے شاہ‘کا نام استعمال کرنے کی وجوہات معلوم کی جانی چاہییں۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ تاریخ ساز شخصیت کے نام پر فلم سینسر بورڈ نے کس طرح پاس کی، اس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔ حضرت بلھے شاہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کا کلام آج بھی لوگوں کو ازبر ہے۔ بلھے شاہ نے ہمیشہ محبت کا سبق دیا ہے۔ ایک فلم کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک آدمی کے نام کے ساتھ بلھے شاہ کا نام جوڑا گیا جس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ سینسر بورڈ نے کیسے اس فلم کو منظور کیا؟ ۔ اس موقع پر چیئرمین مرکزی فلم سینسر بورڈ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جواب دیا کہ اس فلم میں ایک شخص کا نام بلھے رکھا گیا جو مافیا کے خلاف لڑتا ہے۔ اس پہ ایک کمیٹی بنا دی جائے، جس کی سربراہی پرویز رشید کریں۔ اس میں فلم پروڈیوسر اور سینسر بورڈ کو بھی بلایا جائے۔اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید نے ذیلی کمیٹی بنانے کی مخالفت کر دی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اسی کمیٹی میں یہ معاملہ رکھا جائے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ یہاں چیئرمین کمیٹی تیاری کے ساتھ نہیں آئے۔ ان کا جواب تسلی بخش نہیں۔ اس فلم میں جو بلھا بنا وہ بندوق لہرا کر کہتا ہے، وہ کل کا بلھا تھا میں آج کا بلھا ہوں۔ چیئرمین سینسر بورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اس عمل پر کیا ایکشن لیا۔فلم “بلھے” میں صوفی بزرگ کے نام کو پرتشدد مواد سے جوڑنے پر سینیٹر پرویز رشید نے سخت اعتراض اٹھایا، جس پر کمیٹی نے فلم پروڈیوسر اور سینسر بورڈ کے تمام ارکان کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔
101
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل