samaa ke workers ko bara jhatka 238

سماکے کیمرہ مین پر تشدد۔۔ پریس کلب وصحافتی تنظیموں کا اظہار مذمت۔۔۔۔

کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد کے قریب سماء نیوز کے کیمرہ مین امتیاز علی پر تشدد، انہیں یرغمال بنا کر غیرقانونی طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے اور ان کا کیمرا چھیننے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت اور صحافیوں کے بنیادی حقوق پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔اتوار کی شب کراچی پریس کلب سے جاری مشترکہ بیان میں پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز پر حملے، انہیں تشدد کا نشانہ بنانا، ان کے پیشہ ورانہ آلات چھین لینا، کوریج سے روکنا اور غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنا کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول عمل ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف آئین میں دی گئی آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی صریحا خلاف ورزی ہیں بلکہ جمہوری اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحافی عوام تک درست، بروقت اور غیرجانبدار معلومات پہنچانے کی قومی ذمہ داری ادا کرتے ہیں، لہٰذا انہیں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنا، ہراساں کرنا یا تشدد کا نشانہ بنانا ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔کراچی پریس کلب نے حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ امتیاز علی پر تشدد، انہیں یرغمال بنا کر حبسِ بے جا میں رکھنے اور کیمرا چھیننے کے واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور صحافیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ کراچی پریس کلب نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سے بھی مطالبہ کیا کہ اگر اس واقعے میں ان کی جماعت کے کارکن ملوث ہیں تو ان کے خلاف فوری تنظیمی کارروائی کی جائے اور آئندہ کسی بھی صحافی یا میڈیا ورکر کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے یا ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔فاضل جمیلی اور اسلم خان نے سماء نیوز کے کیمرہ مین امتیاز علی اور ادارے کی پوری ٹیم سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کراچی پریس کلب صحافی برادری کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد، ہراسانی یا دباؤ کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔دوسری طرف کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان، جنرل سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری اور مجلسِ عاملہ کے اراکین نے سماء ٹی وی کے کیمرہ مین امتیاز کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے، ان کا کیمرہ چھیننے، انہیں ایک کمرے میں محبوس رکھنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ متاثرہ کیمرہ مین کے بیان کے مطابق وہ فائرنگ کے واقعے کی ویڈیو بنا رہے تھے کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے مبینہ کارکنوں نے انہیں کوریج سے روکا، مکے اور تھپڑ مارے، کیمرہ چھین لیا اور تقریباً آدھے گھنٹے تک ایک کمرے میں بٹھائے رکھا۔ بعد ازاں خبر نشر ہونے پر انہیں رہا کیا گیا۔ کیمرہ مین کو ویڈیو جاری کرنے کی صورت میں نتائج بھگتنے کی دھمکی دینا اور ان کی تصویر مختلف گروپس میں شیئر کرنا نہایت تشویش ناک اور آزادیٔ صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ کے یو جے کے صدر طاہر حسن خان اور جنرل سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری نے کہا کہ صحافیوں، کیمرہ مینوں اور میڈیا ورکرز کو عوامی اہمیت کے واقعات کی کوریج سے روکنا، ان پر تشدد کرنا، ان کے آلات چھیننا اور انہیں حبسِ بے جا میں رکھنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سیاسی یا تنظیمی اختلافات کی آڑ میں میڈیا ورکرز کو نشانہ بنانا آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت اور شہری آزادیوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری اور غیر جانب دارانہ نوٹس لیا جائے، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کی مدد سے تشدد، حبسِ بے جا، کیمرہ چھیننے اور دھمکیاں دینے میں ملوث افراد کی شناخت کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے اور متاثرہ کیمرہ مین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ کے یو جے نے ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی قیادت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ واقعے کی واضح مذمت کرے، مبینہ طور پر ملوث کارکنوں کے خلاف تنظیمی کارروائی عمل میں لائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں کسی صحافی یا میڈیا ورکر کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے واضح کیا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو صحافی برادری احتجاج سمیت تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکریٹری ریحان خان چشتی اور مجلسِ عاملہ نے سماء نیوز کے کیمرہ مین امتیاز علی پر تشدد، ان کا کیمرا چھیننے اور انہیں حبسِ بے جا میں رکھنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت اور صحافیوں کے بنیادی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔کے یو جے (دستور) کے رہنماؤں نے کہا کہ متاثرہ کیمرہ مین کے مطابق وہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ایک عوامی اہمیت کے واقعے کی کوریج کر رہے تھے، جہاں انہیں کوریج سے روکا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کا کیمرا چھین لیا گیا اور انہیں زبردستی ایک کمرے میں بٹھائے رکھا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ قانون کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں، کیمرہ مینوں اور دیگر میڈیا ورکرز کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنا، انہیں ہراساں کرنا، تشدد کا نشانہ بنانا یا دھمکیاں دینا کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ میڈیا نمائندے عوام تک حقائق پہنچانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں اور ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنا آزادیٔ اظہار پر حملہ ہے۔کے یو جے (دستور) نے حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، دستیاب شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ صحافی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔کے یو جے (دستور) کے عہدیداروں نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سے بھی مطالبہ کیا کہ اگر واقعے میں ان کے کارکن ملوث ہوں تو ان کے خلاف تنظیمی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کسی بھی صحافی یا میڈیا ورکر کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) صحافی برادری کے جان و مال کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور پیشہ ورانہ حقوق کے دفاع کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور صحافیوں کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد یا ہراسانی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) کے صدر اعجاز احمد،جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نقوی، نائب صدور محمد ناصر شریف، راہب گاہو، خازن یاسر محمود، جوائنٹ سیکریٹریز طلحہٰ ہاشمی، روبینہ یاسمین اور مجلس عاملہ کے اراکین نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد کے نزدیک واقع پارک میں پارٹی کے دو گروہوں کے مابین جھگڑے کے دوران سماء ٹی وی کے کیمرہ مین امتیاز سمیت دیگر میڈیا پرسنز کے ساتھ ناروا سلوک، مذکورہ کیمرہ مین سے کیمرہ چھیننے اور توڑنے کی شدید مذمت کی ہے۔ کے یو جے عہدے داروں نے اپنے بیان میں کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی اختلافات میں میڈیا پرسنز کو نشانہ بنانے سے گریز کریں، میڈیا پرسنز صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دے رہے ہوتے ہیں ،خبر، تصویر یا فوٹیج بنانا اور عوام کو صورت حال سے آگاہ کرنا ان کی ذمے داری میں شامل ہے، لہذا انہیں ہی ہدف بنا کر کام سے روکنا ایک افسوس ناک امر ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ تمام سیاسی یا مذہبی جماعتیں اور دیگر گروہ میڈیا پرسنز کو آزادی کے ساتھ ان کی ذمے داریاں ادا کرنے دیا کریں۔ دوسری طرف کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد کے قریب سماء نیوز کے کیمرہ مین امتیاز علی پر تشدد، انہیں یرغمال بنا کر غیرقانونی طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے اور ان کا کیمرا چھیننے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت اور صحافیوں کے بنیادی حقوق پر کھلا حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت اس واقعہ کی تحقیقات کروائے مبینہ طور پر پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس واقعہ میں ایم کیو ایم کے کارکنان ملوث ہیں اگر تحقیقات میں الزام ثابت ہو جائے تو ملوث کارکنوں کے خلاف تنظیمی کاروائی کی جائے اور آئندہ کسی بھی صحافی یا میڈیا ورکر کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے یا ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ کے یو جے دستور گروپ کے صدر محمد عارف خان جنرل سیکرٹری محسن شبیر سومرو نائب صدر قسیم رحیم جوائنٹ سیکرٹری طارق اسلم خازن عمران پیزادہ اور ممبرز ایگزیکٹو کونسل نے بیان میں واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سندھ آئی جی پولیس سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ امتیاز علی پر تشدد، انہیں یرغمال بنا کر حبسِ بے جا میں رکھنے اور کیمرا چھیننے کے واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور صحافیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کی مجلس عاملہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد کے مقام پر سماء نیوز کے کیمرہ مین امتیاز علی پر تشدد، انہیں یرغمال بنانے اور ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کیمرہ چھیننے کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ میدانِ عمل (فیلڈ) میں موجود صحافیوں اور میڈیا ورکرز پر حملہ، تشدد اور یرغمال بنانا آزادیِ صحافت پر براہِ راست حملہ ہے۔ صحافی اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر عوام تک حقائق پہنچاتے ہیں، ان پر اس نوعیت کا تشدد کسی طور قابلِ برداشت نہیں۔۔۔ سی آر اے نے وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی ایسٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کیمرہ مین کا چھینا گیا سامان فوری طور پر واپس کرایا جائے اور نقصان کا ازالہ کیا جائے۔سی آر اے نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی اعلیٰ قیادت اپنے کارکنان کا قبلہ درست کرے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت تنظیمی و قانونی اقدامات کو یقینی بنائے۔صحافیوں پر تشدد اور ہراسانی کے واقعات آزادیِ اظہارِ رائے کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں۔ اگر ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن سخت لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔۔۔۔سی آر اے کی جانب سے سماء نیوز کی انتظامیہ اور متاثرہ کیمرہ مین امتیاز علی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ صحافتی برادری کے حقوق اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم کے بانی و مرکزی صدر میاں خرم شہزاد، مرکزی جنرل سیکرٹری ساجد احمد، مرکزی چیف آرگنائزر عامر رضا، مجلسِ عاملہ اور فورم کے تمام اراکین نے سماء نیوز کے کیمرہ مین امتیاز پر مبینہ تشدد، ہراساں کرنے، کیمرہ چھیننے اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایک میڈیا ورکر پر حملہ ہے بلکہ آزادیٔ صحافت، آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق اور عوام کے حقِ معلومات پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا۔ کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ کے کارکنوں کی جانب سے صحافیوں کو تشدد، دھمکیوں یا دباؤ کے ذریعے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنا ناقابلِ قبول ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کارکنان پر لگنے والے ان الزامات کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ صحافیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ وہ خوف و ہراس کے بغیر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے وفاقی و صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سندھ حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، متاثرہ کیمرہ مین کو انصاف فراہم کیا جائے اور میڈیا نمائندوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔ ان پر حملے درحقیقت سچائی کی آواز دبانے کی کوشش ہیں، جنہیں کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور ان کے آئینی و قانونی حقوق کے دفاع کے لیے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے صحافتی برادری کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں