131

حکومت این سی سی آئی اے سے منہ کالا نہ کرے، پی ایف یوجے دستور۔۔۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر حاجی محمد نواز رضا، سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ نے روزنامہ نئی بات کراچی کے رپورٹر مرتضی کے زلفی اور کالم نگار توفیق بٹ کو این سی سی آئی اے کے نوٹسز کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے پر قدغن اور آئین پاکستان کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ این سی سی آئی اے کی کالک سے اپنا منہ کالا ہونے سے بچائے۔صحافی رہنماوں حاجی محمد نواز رضا اور اے ایچ خانزادہ کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں کہ جب دنیا پاکستان کی دفاعی اور سفارتی صلاحیتوں کی معترف ہوئی ہے ایسے میں ملک کے اندر عاقبت نا اندیش ٹولے سے تعلق رکھنے والے کچھ عناصر ریاست، حکومت اور ریاست کے چوتھے ستون کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ پیکا یا کوئی قانون آزادی صحافت اور آزادی اظہار کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوگا، مگر ایسا ہوا نہیں۔ صحافی رہنماوں حاجی محمد نواز رضا اور اے ایچ خانزادہ نے وزیر اطلاعات کی اسمبلی میں میڈیا کی مشکلات کے تذکرے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔ دریں اثنا کے یو جے دستور نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے پیکا قانون کے تحت روز نامہ نئی بات کے رپورٹر مرتضی کے زلفی اور کالم نگار توفیق بٹ کو جاری نوٹسز کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے، کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چودھری اور سیکرٹری ریحان چشتی نے کہا ہے کہ پیکاکے نفاذ کے وقت میڈیا اداروں کو یقین دہانی کرائی گئی تھی اسکا اطلاق پرنٹ میڈیا پر نہیں ہوگا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا ہے، کے یو جے دستور نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو آئین کے آرٹیکل 19 کا احترام اور آزاد میڈیا کے تحفظ کے اپنے عزم پر قائم رہناچاہئے۔ کے یو جے دستور کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن کی شکایت پر ایک اخبار اور اس کے کالم نگار توفیق بٹ کو NCCIA کی جانب سے اس بنیاد پر نوٹس جاری کرنا کہ کالم میں سول سرونٹ کو بدنام کرنے کے لئے “بیورو کرپٹس ” ( bureau corrupts) کی اصطلاح استعمال کی گئی، آزادی صحافت، عوامی مباحثے، اظہار رائے کی آزادی اور عوام کے حق آگاہی پر براہ راست حملہ ہے، کے یو جے دستور کے رہنماوں نے کہا کہ صحافیوں کا اپنی تحریر میں اصطلاحات کا استعمال آزاد صحافت اور زبان وبیان کی خوبصورتی میں شمار کیا جانا چاہئے چہ جائیکہ اس طرز تحریر کو صحافیوں اور صحافتی اداروں پر قدغن لگانے کیلئے استعمال کیا جائے، اس طرح کے ہتھکنڈوں سے نہ صحافی پہلے کبھی مرعوب ہوئے ہیں نہ اب ہونگے، ضرورت پڑی تو کے یو جے دستور نئی بات انتظامیہ کے ساتھ ملکر قانونی جنگ لڑے گی۔دریں اثنا کے یو جے دستور نے روزنامہ نئی بات کراچی کے سینئر رپورٹر مرتضی ٰکے زلفی کو این سی سی آئی اے کی طرف سے بھیجے گئے نوٹس پرشدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے آزادی اظہار پر قدغن قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور مرتضی کے زلفی کو جاری نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں