218

صحافیوں کو بلیک لسٹ کرنا پیمرا کا غیرآئینی حکم ہے، پی ایف یوجے ورکرز۔۔

کلپاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) نے جیو نیوز سے متعلق پیمرا کی حالیہ حکم پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے میڈیا ورکرز کے خلاف ایک ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقدام قرار دیا ہے۔ پی ایف یو جے (ورکرز) کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے معافی کے بعد معاملہ بظاہر ختم ہو چکا ہے، تاہم ریگولیٹری باڈی کا احتساب کا سارا بوجھ نچلے درجے کے ملازمین پر ڈالنا کسی طور پر قابل قبول نہیں۔یونین قیادت نے واضح کیا کہ میڈیا انڈسٹری کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ادارتی پالیسی اور نشریاتی مواد مالکان اور اعلیٰ انتظامیہ کی مرضی و ہدایت کے تابع ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں قیادت کو استثنیٰ دینا اور نچلے درجے کے کارکنوں کو نہ صرف ملازمت سے برطرف کرنا بلکہ انہیں مستقبل میں بھی کسی میڈیا ادارے میں کام کرنے سے روکنا (بلیک لسٹ کرنا) انسانی حقوق اور لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔یہ حکم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کےآرٹیکل 18 کی خلاف ورزی ہے جو شہری کو اپنے پسندیدہ پیشے یا کاروبار کو اپنانے کی آئینی ضمانت دیتا ہے۔یہ حکم آرٹیکل 9 سے بھی متصادم ہے کیونکہ روزگار سے محروم کرنا بنیادی انسانی حقوق اور ‘حقِ حیات’ کے تصور کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔پی ایف یو جے (ورکرز) کے قائدین نے زور دیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی لیبر چارٹرز کے بھی برعکس ہے جو کارکنوں کے روزگار کے تحفظ اور پیشہ ورانہ آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔ ایسی یکطرفہ کارروائی شفاف احتساب کے اصولوں کے برعکس ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) پیمرا سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کرے۔ ہدایت نامے میں موجود وہ مخصوص پیراگراف جس میں ملازمین کی برطرفی اور ان پر انڈسٹری میں کام کرنے پر پابندی کا ذکر ہے، اسے فی الفور حذف کیا جائے۔ یونین واضح کرتی ہے کہ اگر حقیقی احتساب مقاصدِ اصلی ہیں، تو پالیسی سازوں کو جوابدہ بنایا جائے، نہ کہ غریب ملازمین کے روزگار کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ پی ایف یو جے (ورکرز) متاثرہ ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں