peca ke khilaaf ki samaat wafaq ko mazeed 2 haftay ki mohlat 171

صحافیوں کے سروں پر لٹکی پیکا کی تلوار ہٹادی گئی۔۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس کنوینر سینیٹر سرمد علی کی زیرصدارت منعقد ہوا کمیٹی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے) کو کسی بھی اخبار، اس کے ڈیجیٹل ایڈیشن، ویب سائٹ یا ٹی وی چینل کی شائع شدہ خبر پر کارروائی سے روک دیا۔ کنوینر کمیٹی سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ اخبارات سے متعلق شکایات کے لیے پریس کونسل آف پاکستان جبکہ ٹی وی چینلز کے لیے پیمرا متعلقہ فورمز ہیں، اس لیے پاس گروپ کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی شکایت پریس کونسل میں دائر کرے۔سینیٹر سرمد علی نے یاد دلایا کہ پیکا قانون کی منظوری کے وقت حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں ایک صحافی کی جانب سے بیوروکریٹس کے لیے “بیوروکرپٹ” کا لفظ استعمال کرنے سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ اخبار نے متنازع کالم ہٹا دیا ہے، تاہم وہ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر اخبار نے کالم ہٹا دیا تو اس کا مطلب ہے کہ اسے غلط سمجھا گیا، لیکن اگر وہی مواد سوشل میڈیا پر موجود ہے تو قانون میں اس حوالے سے ابہام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا تو قانون ختم کیا جائے یا اس میں مناسب ترمیم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف اخبار سے خبر حذف کرکے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنا بھی ایک مسئلہ ہے، تاہم این سی سی آئی اے نے اس معاملے میں صرف نوٹس جاری کیا، مقدمہ درج نہیں کیا۔نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے کہا کہ بدقسمتی سے زیادہ تر کارروائیاں صحافیوں کے خلاف ہو رہی ہیں، حالانکہ کوئی ذمہ دار صحافی ثبوت کے بغیر خبر شائع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اخبار اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں فرق کو سمجھنا ہوگا اور صحافی برادری تمام مشکلات کے باوجود ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔کمیٹی نے مذکورہ معاملہ مزید کارروائی کے لیے پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوا دیا۔اجلاس میں یاد دلایا گیا کہ پیکاقانون کی منظوری کے وقت حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ روایتی میڈیا اور ان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے ‘پاس گروپ’ کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنی شکایت لے کر پریس کونسل آف پاکستان سے رجوع کرے۔کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں