ملک کی سب سے بڑی عدالت وفاقی آئینی عدالت نے مستقل نوعیت کے کام کیلئے کنٹریکٹ پر تعیناتیاں غیرقانونی قرار دے دیں، دوسری جانب ملک بھر کے میڈیا ہاؤسز میں مستقل نوعیت کے کام کیلئے بھی کنٹریکٹ پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔ چینلز ہوں یا اخبارات صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو کنٹریکٹ پر رکھا جاتا ہے، المیہ یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کو چوبیس پچیس سال ہوگئے لیکن تاحال اس کے ملازمین کیلئے کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس ارشد حسین نے کہا کہ زندگی کے بنیادی حق کیلئے ضروری ہے کہ شہریوں کے پاس مستقل ملازمت ہو، انہوں نےسابق فاٹا ڈسپنسرز کو مستقل کرنیکا حکم بھی جاری کردیا۔جمعرات کو وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس ارشد حسین نے چار صفحات پر مشتمل فیصلے میں سابق فاٹا کے ڈسپنسرز کو مستقل کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے صوبائی حکومت کو ڈسپنسرز کو2002 میں تعیناتی سے مستقلی کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔
216
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل