پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کریئیٹرز کے مرکزی قائدین نے معروف کالم نگار، محقق اور استاد توفیق بٹ کو ایک کالم میں حقائق بیان کرنے کی پاداش میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے پیکا قانون کے تحت نوٹس جاری کئے جانے اور طلبی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس قدام کی شدید مذمت کی ہے۔رہنماؤں کے مطابق توفیق بٹ نے اپنے کالم میں عمومی معاشرتی اور انتظامی حقائق پر اظہار خیال کیا ہے، جبکہ اس تحریر میں کسی مخصوص فرد، ادارے یا شخصیت کا نام تک شامل نہیں ہے۔ یہ اقدام اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ نوٹس کسی مضبوط قانونی بنیاد کی بجائے محض بیوروکریسی کی دھونس اور دباؤ کا ایک حربہ ہے تاکہ سچ لکھنے والی آوازوں کو خاموش کیا جاسکے۔ تنظیم کے اعلیٰ سطحی مشترکہ بیان میں چیئرمین پی ایف یو سی فرخ شہباز وڑائچ، مرکزی صدر فرید مرزا، سیکریٹری جنرل وقار اسلم، سینئر نائب صدر محمد علی، نائب صدور اظہر تھراج، حافظ ذوہیب ، ڈاکٹر شہباز عباسی، عمران کاڈیہ، حاجی نعیم، سیکرٹری اطلاعات سعدیہ خالد، جوائنٹ سیکرٹری روزینہ فیصل، صدر برائے وویمن ونگ مہوش فضل ودیگر نے کہا کہ محض ایک کالم لکھنے پر ملک کے سینیر صحافی اور استاد کو وفاقی ادارے کی طرف سے ہراساں کیا جانا سراسر زیادتی او افسر شاہی کی ہٹ دھرمی کا عکاس ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ ایسا نوٹس ’’چور کی داڑھی تنکا‘‘کے مصداق محسوس ہوتا ہے، اگر ’’ بیوروکرپٹ‘‘ جیسی اصطلاح مکمل طور پر بے بنیاد اور حقیقت سے عاری ہے تو پھر سرکاری اداروں، بالخصوص آڈیٹر جنرل اور دیگر احتسابی اداروں کی جانب سے آئے روز مالی بے ضابطگیوں ، بدعنوانی اور انتظامی کمزوریوں پر مبنی رپورٹس کیوں منظر عام پر آتی ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ کرپشن اور بدانتظامی ایک قومی مسئلہ ہے جس کی نشاندہی خود ریاستی ادارے اپنی تحقیقات اور آڈٹ رپورٹس میں کرتے رہے ہیں، ایسے میں ان مسائل کی نشاندہی کرنے والے قلم کاروں کو نوٹسز اور طلبیوں کے ذریعے دبانے کے بجائے توجہ ان خرابیوں کے خاتمے پر مرکوز ہونی چاہیئے جن کی طرف نشاندہی کی جا رہی ہے۔پی ایف یو سی کے رہنماؤں نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ توفیق بٹ کو جاری کیا گیا نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے اور صحافیوں، کالم نگاروں اور قلم کاروں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض بلا خوف و خطر انجام دینے کے لیے آزاد اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ بصورت دیگر تنظیم ملک بھر کے کالم نگاروں، صحافی تنظیموں اور آزادیٔ اظہار کے حامی حلقوں کے ساتھ مل کر صحافتی آزادی کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور قانونی فورمز پر بھرپور آواز اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
159
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل