ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی صورتحال، ذرائع ابلاغ کے کردار، قومی سلامتی اور خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران ملکی حالات اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ موجودہ علاقائی صورتحال اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات بھی زیر بحث آئے۔ شرکاء نے قومی امور کے حوالے سے میڈیا کی ذمہ داریوں، اطلاعات کی بروقت فراہمی اور عوام تک درست معلومات پہنچانے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے کردار اور موجودہ دور میں میڈیا کو درپیش چیلنجز سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اہمیت کے معاملات خصوصاً سلامتی اور علاقائی پیش رفت سے متعلق رپورٹنگ میں درست، مصدقہ اور ذمہ دارانہ معلومات کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔ملاقات میں خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں، سلامتی کے ماحول اور پاکستان کو درپیش مختلف چیلنجز پر بھی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے اس امر پر تبادلہ خیال کیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنے اور قومی مفاد سے متعلق معاملات کی مؤثر انداز میں رپورٹنگ میں میڈیا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور اے پی این ایس و سی پی این ای کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی رابطوں اور مختلف قومی امور پر تبادلہ خیال کو جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اے پی این ایس ملک کے اخبارات اور جرائد کے ناشران کی نمائندہ تنظیم جبکہ سی پی این ای اخبارات اور نیوز اداروں کے ایڈیٹرز کی نمائندگی کرتی ہے۔ دونوں تنظیمیں ملک میں پرنٹ اور ڈیجیٹل صحافت سے متعلق معاملات، میڈیا کی آزادی، پیشہ ورانہ امور اور صحافتی اداروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ملاقات کو میڈیا اداروں اور قومی سلامتی سے متعلق ریاستی اداروں کے درمیان رابطے کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب خطے میں سیاسی اور سلامتی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور قومی سطح پر مصدقہ اطلاعات کی فراہمی اور ذمہ دارانہ صحافت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
42
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل