93

عالمی میڈیا کی رپورٹنگ پر نئی پابندیاں۔۔۔

پاکستانی حکام نے ملک میں بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ان نئی ہدایات کے تحت غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے تمام افراد، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، اب اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ ملک میں کسی بھی جگہ سے رپورٹنگ کرنے کے لیے پیشگی اجازت حاصل کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے بیشتر علاقوں میں غیر ملکی میڈیا کی رپورٹنگ کا انحصار حکام کی اجازت اور ان کے مقرر کردہ وقت پر ہو جائے گا۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان اس وقت 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہے۔پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جاری کی گئیں یہ ہدایات میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے نہیں بلکہ میڈیا کی تصدیق، انھیں رسائی میں مدد فراہم کرنے اور ضروری چیزوں میں تعاون دینے کے لیے ’ایک انتظامی طریقہ کار‘ مرتب کرنے کے لیے جاری کی گئی ہیں۔فارن میڈیا فیسیلیٹیشن گائیڈ لائنز، 2026‘ کے نام سے جاری کیے گئے نئے قواعد و ضوابط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اجازت نامہ حاصل کرنے، جسے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کہا جاتا ہے، کے اجرا میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔غیر ملکی صحافیوں کو پہلے ہی این او سی درکار ہوتا ہے اور انھیں اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے کئی کئی ماہ انتظار کرنا پڑ سکتا ہے یا بعض اوقات انھیں کوئی جواب ہی نہیں ملتا۔اس صورتحال کے باعث 24 کروڑ آبادی والے ملک میں کسی اہم اور فوری خبر کی موقع پر جا کر رپورٹنگ کرنے کی ان کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے۔اسی وجہ سے بین الاقوامی میڈیا ادارے اکثر پاکستانی شہریوں پر انحصار کرتے ہیں، جو پشاور یا کوئٹہ جیسے شہروں کا زیادہ آسانی سے سفر کر سکتے ہیں یا پہلے سے وہاں مقیم ہوتے ہیں، تاکہ اطلاعات کی تصدیق کی جا سکے۔ ان نئی ہدایات کے تحت، تین مخصوص شہروں کے علاوہ کسی اور مقام پر مقیم کوئی بھی معاون صحافی، بشمول فری لانس صحافیوں کے، کسی خبر کی کوریج کے لیے این او سی حاصل کرنے کا پابند ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں