96

غیر ملکی میڈیا پرنئی حکومتی پابندیاں آزادیٔ صحافت کے لیے خطرہ ہیں، ڈیجی میپ۔۔۔

ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان (ڈیجی میپ) نے وفاقی حکومت کی جانب سے غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے جاری کردہ نئی ہدایات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں آزادیٔ صحافت، شفافیت اور جمہوری اقدار کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔جمعرات کو جاری مشترکہ بیان میں ڈیجی میپ کے صدر سبوخ سید اور سیکریٹری جنرل عدنان عامر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی پابندیاں صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں اور آزادیٔ اظہار کے آئینی اصول کو کمزور کرتی ہیں۔ڈیجی میپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کی سرگرمیوں سے متعلق حکومتی فریم ورک پر صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید میں اضافہ ہورہا ہے۔
تنظیم کے مطابق نوٹیفکیشن کے تحت نہ صرف غیر ملکی صحافیوں کو مخصوص شہروں سے باہر جانے کے لیے پیشگی اجازت کا پابند بنایا گیا ہے بلکہ بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔
ڈیجی میپ نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں سے آزادانہ رپورٹنگ کرنا مشکل ہوجائے گا، خصوصاً ایسے مواقع پر جب اہم واقعات کی کوریج کے لیے صحافیوں کا متعلقہ مقامات تک فوری پہنچنا ضروری ہو۔بیان میں کہا گیا، ’’اگر صحافیوں کو اہم پیش رفت والے علاقوں تک رسائی سے روک دیا جائے تو وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام نہیں دے سکتے۔ میڈیا کی رسائی محدود کرنے سے عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے، شفاف رپورٹنگ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور عالمی برادری کو منفی پیغام جاتا ہے۔یہ تنقید حکومت کی جانب سے ’’پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا اور ان کے معاونین کے لیے سہولت کاری کی ہدایات‘‘ جاری کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان ہدایات کے تحت غیر ملکی صحافیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر رپورٹنگ کی بیشتر سرگرمیوں کے لیے حکومتی اجازت درکار ہوگی۔
وزارتِ اطلاعات کا مؤقف ہے کہ ان ہدایات کا مقصد میڈیا کی آزادی محدود کرنا نہیں بلکہ غیر ملکی میڈیا کے لیے ایک شفاف اور جواب دہ نظام قائم کرنا ہے۔تاہم ڈیجی میپ نے کہا کہ نئی پالیسی ایسے وقت متعارف کرائی گئی ہے جب پاکستان کو پہلے ہی آزادیٔ صحافت کے حوالے سے عالمی سطح پر تنقید اور نگرانی کا سامنا ہے۔ حکومت کو صحافیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے ذمہ دارانہ صحافت کو سہولت فراہم کرنی چاہیے اور شفافیت و جواب دہی کے لیے اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ ان پابندیوں کے براہِ راست اثرات بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ اگر صحافی ملک کے مختلف علاقوں کا سفر اور رپورٹنگ نہیں کرسکیں گے تو انہیں پیشہ ورانہ نقصان اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ڈیجی میپ کے مطابق صحافیوں کی آزادانہ طور پر معلومات جمع کرنے کی صلاحیت محدود ہونے سے عوام کو مصدقہ اور قابلِ اعتماد اطلاعات تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں گی اور معلومات کے آزادانہ بہاؤ پر اعتماد کمزور ہوگا۔
الائنس نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے کر صحافتی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والی کسی بھی پالیسی کے اجرا سے قبل نمائندہ میڈیا تنظیموں کے ساتھ بامقصد مشاورت کی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا، ’’معلومات کا آزادانہ بہاؤ ہر جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ پاکستان کا تشخص صحافیوں پر پابندیاں لگانے سے نہیں بلکہ کھلے پن، شفافیت اور آزادیٔ صحافت کے احترام سے مضبوط ہوگا۔ڈیجی میپ نے آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو تنظیم دیگر میڈیا اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے گی اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن احتجاج، عوامی مہم اور قانونی راستوں سمیت تمام جمہوری آپشنز پر غور کیا جائے گا۔ڈیجی میپ کا بیان پاکستانی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کی جانب سے سامنے آنے والے اعتراضات میں ایک اور اضافہ ہے۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ نئی ہدایات سے خبر جمع کرنے کے عمل پر بیوروکریٹک کنٹرول بڑھے گا اور ملک بھر میں آزادانہ صحافت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں