95

این سی سی آئی اے کو اسد طور کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نےنیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ صحافی اور وی لاگر اسد طور کو مبینہ جھوٹی معلومات پھیلانے سے متعلق جاری تحقیقات کے دوران ہراساں نہ کیا جائے۔ عدالتی حکم کے بعد اسد طور کو جاری قانونی کارروائی کے دوران عارضی ریلیف مل گیا ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے اسد طور کی جانب سے این سی سی آئی اے کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔این سی سی آئی اے نے 29 جولائی کو اسد طور کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 31 جولائی کو اسلام آباد میں قائم سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ یہ نوٹس مبینہ طور پر “جھوٹی یا جعلی معلومات کی تشہیر اور عوامی سطح پر پھیلاؤ” سے متعلق انکوائری کے سلسلے میں جاری کیا گیا تھا۔تاہم اسد طور نے این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہونے کے بجائے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ جاری کردہ نوٹس قانونی تقاضے پورے نہیں کرتا کیونکہ اس میں ان پر عائد مخصوص الزامات کی وضاحت نہیں کی گئی، جس کے باعث ان کے لیے مؤثر دفاع یا جواب تیار کرنا ممکن نہیں۔عدالت نے اس سے قبل بھی این سی سی آئی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسد طور کے خلاف الزامات کی تفصیلات فراہم کرے۔سماعت کے دوران اسد طور کے وکیل ایڈووکیٹ عطااللہ کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل تحقیقات میں مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم انہیں خدشہ ہے کہ پیشی کے دوران گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ:”ہم انکوائری میں پیش ہونا چاہتے ہیں، لیکن گرفتار نہیں ہونا چاہتے۔ اس موقع پر جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ این سی سی آئی اے کس مخصوص رپورٹ کو جھوٹا قرار دے رہی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق انکوائری کا تعلق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی طبی حالت سے متعلق ایک رپورٹ سے ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ تحقیقات کے دوران اسد طور کو ہراساں نہ کیا جائے۔ عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تازہ حکم کے بعد اسد طور کو فی الحال یہ تحفظ حاصل ہوگیا ہے کہ این سی سی آئی اے انکوائری کے دوران انہیں ہراساں نہیں کرے گی۔تاہم کیس کی قانونی کارروائی ابھی جاری ہے اور عدالت کی جانب سے تفتیشی افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیے جانے کے بعد آئندہ سماعت میں انکوائری کی نوعیت اور اسد طور کے خلاف الزامات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں