102

این سی سی آئی اے کو اخبارات میں لکھنے والوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا گیا۔۔۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے اخبارات کے کالم نگاروں کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔قائمہ کمیٹی نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو اجلاس میں طلب کیا تھا، تاہم وہ پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی این سی سی آئی اے کا کوئی نمائندہ اجلاس میں شریک ہوا، جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سرمد علی نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔اجلاس کے دوران سینیٹر سرمد علی نے سوال اٹھایا، “این سی سی آئی اے آخر اخبارات میں کالم لکھنے پر نوٹس کیوں بھیج رہی ہے؟”انہوں نے واضح کیا کہ اخبارات کو نوٹس جاری کرنا این سی سی آئی اے کے اختیارات میں شامل نہیں اور ادارے کو ایسا کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کی واضح ہدایات ہیں کہ این سی سی آئی اے کے پاس اس نوعیت کے اختیارات موجود نہیں، لہٰذا ادارہ اخبارات میں لکھنے والے صحافیوں اور کالم نگاروں کو ہراساں نہ کرے۔قائمہ کمیٹی نے این سی سی آئی اے کو اخبارات میں لکھنے والوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا ۔سینیٹر سرمد علی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں سینیٹرز سید وقار مہدی، جان محمد، عبدالشکور خان اور پرویز رشید نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران میڈیا پالیسی، میڈیا ورکرز کی فلاح و بہبود، سرکاری میڈیا اداروں کی کارکردگی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے این سی سی آئی اے کی جانب سے اخبارات اور کالم نگاروں کو جاری کردہ نوٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے اسے صحافیوں کی ہراسانی قرار دیا اور ہدایت کی کہ اخبارات یا ان کی ویب سائٹس کے خلاف کوئی غیر قانونی کارروائی نہ کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں