99

نیشنل میڈیا باقاعدہ ایجنڈے پر چلتا ہے۔۔

تحریر: رضوان چوہان
حالیہ دنوں میں بلوچستان کی اسما جتک والا کیس پاکستان کا سب سے خطرناک کیس تھا نیشنل میڈیا پر اس کیس کا مکمل بائکاٹ کیا گیا اسی اسما جتک والے کیس کے ساتھ ہی خضدار میں ایک ایسا اور کیس آیا اسے بھی مکمل بائکاٹ کا سامنا ہوا۔ اسما جتک والا کیس اتنا خطرناک ہے کہ ریاست کی ناک کے نیچے دو سال قبل ایک لڑکی کو اغوا کیا جاتا ہے عوام احتجاج کرتے ہیں، اور اس کی پاداش میں لڑکی کے خاندان سمیت علاقائ وڈیرے شہید کیے جاتے ہیں پھر دو سال کے اس عرصے میں اسما جتک کا ویڈیو بیان آتا ہے کہ اس کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے لیکن اس بیان کے دو گھنٹے بعد اسما جتک کے والد کو بھرے بازار میں قتل کر دیا جاتا ہے، پورا بلوچستان سراپا احتجاج ہے لیکن نیشنل میڈیا پر سناٹے کا نعرہ چل رہا ہے۔ خواتین کے حقوق والے خاموش ہیں کوئ ایکٹوٹی نہیں ہے۔
لاہور میں پولیس اسٹیشن کے اندر ایک ذہنی معذور بچی کے ساتھ زیادتی و تشدد ہوا نیشنل میڈیا پر مکمل نظر انداز، پھر لاہور میں ہی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بدترین کیس کہ پولیس اسٹیشن کے اندر دو جوان لڑکیوں کو قتل کر دیا گیا، کوئ پوسٹ مارٹم نہیں کوئ تفتیش نہیں کوئ شور نہیں، نیشنل میڈیا پر باقاعدہ بائیکاٹ اور بلیک آؤٹ، سول سوسائٹی خواب خرگوش میں، لبرلز این جی اوز کے چیمپئن منظر عام سے غائب یہاں تک کہ لاہور کے نام نہاد مذہبی رہنما بھی غائب، پھر جب پنجابی مظلوم پٹتا ہے رلتا ہے تو ہمارے دوسرے قومی یونٹس سے اس کے حق میں کوئی آواز ہی بلند نہیں ہوتی، خود پنجاب کی عوام ستو پیے ہوتی ہے اپنے مظلوموں کا تحفظ نہیں کرتی۔ لیکن نیشنل میڈیا کیا کرتا ہے؟
نیشنل میڈیا ہر وہ روش اختیار کرتا ہے جس سے پاکستانی اپنے ملک سے نفرت کریں وہ مسلسل اسی تاثر و طرز میں بیانیہ دیتا ہے کہ لوگ اداروں کو گالی دیں، سیاسی و سرکاری اتھارٹیز سے نفرت کریں، حکومت کو کھلے عام برا بھلا کہیں، پاکستانیت پر عوام کو شرمسار کیا جائے، کہیں مکالمہ، تشخیص، ذومبی ازم کے خلاف توجہ، کوئ بھی درست تعمیری کام نہیں ہو رہا ہے، نیشنل میڈیا مزاج کے نفسیاتی فوبیا کو تقویت دلواتا ہے، ہر وہ بیانیہ اختیار کرتا ہے جس سے قومی یونٹس کے درمیان نفرت پھیلے، ہماری مملکت کی محبت اور اس کا وقار پاکستانیوں سے ختم کروایا جائے، ایثار رواداری خیر خواہی مابین اقوام کے ختم کر دی جائے، مذہبی امور میں تشکیک و تشویش پھیلائی جائے، مذہب کو بازیچہ اطفال بنایا جائے غیر معتبر کیا جائے۔ حالیہ میر رضا والے کیس میں نیشنل میڈیا نے پاکستانی ملت کے ساتھ واضح جانبداری برتی ہے اور اس کا پورا فوکس یہی رہا ہے کہ میر رضا والا کیس کراچی کی خاص عصبیتی فضا میں ملی سوسائٹی کے اندر نفرت و اشتعال کی تیزی کے لئے استعمال کیا جائے۔(رضوان چوہان)
(عمران جونیئر ڈاٹ کام اور اس کی پالیسی کا زیر نظر تحریرسے متفق ہونا ضروری نہیں۔ علی عمران جونیئر)۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں