ڈان نیوز میں ڈاؤن سائزنگ کا سلسلہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے۔ منگل کے روز بھی کراچی سے دو کاپی ایڈیٹر اور ایک این ایل ای کو فارغ کردیا گیا۔۔پپو کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں ڈان سے نکالے گئے ورکرز کی تعداد پچاس کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تاہم منگل کی شب تک ڈان نیوز انتظامیہ کی جانب سے نہ تو برطرف کیے گئے ملازمین کی تعداد کی باضابطہ تصدیق کی گئی اور نہ ہی ان اقدامات کی تفصیلی وجوہات عوامی سطح پر بیان کی گئی ہیں۔ یہ برطرفیاں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے کی گئی ہیں۔۔ جرنلزم پاکستان کے مطابق اب تک ساٹھ لوگ نکالے گئے ہیں، جس میں کراچی سے تیس، اسلام آباد سے تقریبا بارہ، لاہور میں آٹھ جب کہ پشاور میں چھ ملازمین شامل ہیں۔ برطرف کیے جانے والوں میں ادارتی، پروڈکشن اور ٹیکنیکل شعبوں سے وابستہ ملازمین شامل ہیں، جن میں رپورٹرز، کیمرہ آپریٹرز، پروڈیوسرز، نان لائنر ایڈیٹنگ اسٹاف اور پروڈکشن کنٹرول روم کے اہلکار شامل ہیں۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ ڈان میں کئی بلیٹن بند کردیے گئے اور پورا اسٹاف رات 11 بجے بوریا بستر سمیٹ کر نکل جاتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب تک جتنے لوگوں کو نکالا گیا ہے ان میں سب کم سیلریز پر تھے اور جو ابھی تک نکالے نہیں گئے وہ بھاری سیلریز پر ہیں۔ڈان نیوز کی تازہ مبینہ برطرفیوں نے ایک بڑے سوال کو جنم دیا ہے کہ پاکستان کے روایتی اور بڑے میڈیا ادارے کمزور اور غیر یقینی آمدنی کے ماحول میں اپنی صحافتی اور نیوز گیدرنگ صلاحیت کیسے برقرار رکھیں گے۔ جب ایک ہی وقت میں رپورٹرز، ایڈیٹرز، کیمرہ کریوز، پروڈیوسرز اور ٹیکنیکل اسٹاف میں کمی کی جائے تو اس کے اثرات صرف متاثرہ ملازمین اور ان کے خاندانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ نیوز روم کی مجموعی استعداد، فیلڈ رپورٹنگ، علاقائی کوریج اور ناظرین تک پہنچنے والی خبروں کی وسعت اور معیار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
242
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل