136

پاکستان میں میڈیا پر دباؤ میں اضافہ، 233 واقعات رپورٹ

پاکستان میں میڈیا کا شعبہ بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار ہے جہاں قانونی مقدمات، جسمانی حملوں اور ڈیجیٹل ہراسانی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ انکشاف پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی ایک نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں میڈیا کا ماحول مسلسل دباؤ میں رہا، جس میں قانونی کارروائیوں میں اضافہ، صحافیوں پر حملے اور آن لائن ہراسانی کی مہمات شامل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال روایتی اور ڈیجیٹل دونوں طرح کی صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
صحافیوں کو فوجداری مقدمات، طلبیوں اور ریگولیٹری نوٹسز کا سامنا رہا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں آن لائن ہراسانی اور نگرانی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔مزید برآں، میڈیا اداروں کو اشتہارات کی بندش، ریگولیٹری اقدامات اور صحافی تنظیموں کی جانب سے تحفظ کے مطالبات جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق جنوری 2025 سے اپریل 2026 کے درمیان صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے خلاف 233 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں تشدد، دھمکیاں، قانونی کارروائیاں اور سنسرشپ شامل ہیں۔ ان میں 67 حملے، 11 گرفتاریاں، 11 حراستیں اور مختلف قوانین کے تحت 67 فوجداری مقدمات شامل ہیں، جن میں سائبر کرائم قوانین بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سات سنسرشپ کے واقعات، 10 انٹرنیٹ یا نشریاتی خلل اور کم از کم ایک سائبر حملہ بھی ریکارڈ کیا گیا، جس سے ڈیجیٹل نیوز انفراسٹرکچر کی کمزوریوں پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔جسمانی حملے بدستور ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ کئی مواقع پر صحافی احتجاجی مظاہروں یا عوامی اجتماعات کی کوریج کے دوران زخمی ہوئے، جبکہ بعض کو فیلڈ رپورٹنگ کے دوران ہراساں یا حراست میں لیا گیا۔
سیاسی طور پر حساس اجتماعات کی کوریج کے دوران بھی میڈیا ٹیموں پر حملوں کے متعدد واقعات سامنے آئے، جو صحافیوں کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔ایک واقعے میں صحافی فخر الرحمان کو اپریل 2026 میں اسلام آباد میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ اس مقدمے میں دیگر صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو بھی نامزد کیا گیا، جو اجتماعی قانونی کارروائی کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔بعد ازاں عدالت میں پیشی کے بعد انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا اور پھر ضمانت منظور کر لی گئی۔میڈیا اداروں کو ریگولیٹری نوٹسز اور اشتہارات کی پابندیوں کے ذریعے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ بعض ٹی وی چینلز کو مبینہ طور پر تنقیدی یا جانبدارانہ مواد پر شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے، جبکہ کچھ اداروں نے حکومتی اشتہارات میں کمی کے باعث مالی مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل میڈیا کے پہلے سے محدود کاروباری ماحول کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں میڈیا کو درپیش چیلنجز عالمی سطح پر پریس فریڈم میں کمی کے رجحان کا حصہ ہیں، جہاں خاص طور پر تنازعات اور سیاسی طور پر حساس ماحول میں صحافیوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں