انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کی پاکستان پریس فریڈم رپورٹ 2025-26 کے مطابق ملک میں میڈیا کا شعبہ مسلسل اور منظم زوال کا شکار ہے، جہاں قانونی دباؤ، صحافیوں کے خلاف تشدد اور میڈیا اداروں کی بگڑتی معاشی صورتحال نے آزادیٔ صحافت کو شدید متاثر کیا ہے۔
اس رپورٹ میں یکم مئی 2025 سے 30 اپریل 2026 تک کے عرصے کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آزاد صحافت کو “ڈیجیٹل آمریت”، سخت قوانین اور میڈیا اداروں کے لیے محدود ہوتی مالی گنجائش جیسے عوامل سے شدید خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں کی گئی ترامیم نے ریاستی اختیارات کو ڈیجیٹل شعبے میں نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ حکام نے اس قانون کو آن لائن مواد کے حوالے سے صحافیوں کے خلاف استعمال کیا، حتیٰ کہ بعض کیسز میں انسداد دہشت گردی عدالتوں نے عدم موجودگی میں عمر قید کی سزائیں بھی سنائیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے قیام کے بعد چھاپوں، طلبیوں اور صحافیوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بندش میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
آئی ایف جے کے مطابق “جعلی خبروں” اور “ڈیجیٹل دہشت گردی” کے خلاف اقدامات کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین درحقیقت نگرانی کے نظام کو مضبوط کرتے اور اختلافِ رائے کو محدود کرتے ہیں، خاص طور پر آن لائن صحافت میں۔
رپورٹ کے دوران صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات بھی جاری رہے۔ کم از کم تین ٹارگٹ کلنگز ریکارڈ کی گئیں جن میں سندھ میں اے ڈی شر، بلوچستان میں عبداللطیف بلوچ اور کراچی میں امتیاز میر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اکتوبر 2025 میں اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب پر پولیس چھاپہ، جس میں صحافیوں پر تشدد اور آلات کو نقصان پہنچایا گیا، اور مارچ 2026 میں ایک ٹی وی رپورٹر کے گھر پر فائرنگ جیسے واقعات بھی سامنے آئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام واقعات اس ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جہاں صحافیوں کو جسمانی خطرات کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
معاشی سطح پر بھی میڈیا انڈسٹری کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ رپورٹ کے مطابق سرکاری اشتہارات کو ادارتی پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے بطور دباؤ استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی مثال ڈان میڈیا گروپ کو اشتہارات کی تقریباً مکمل بندش ہے۔
اسی دوران میڈیا اداروں میں ملازمین کی چھانٹیاں، تنخواہوں میں تاخیر اور غیر یقینی ملازمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔ نیوز ون ٹی وی، ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی اور سما ٹی وی جیسے اداروں میں نوکریوں کے خاتمے نے انڈسٹری کے عدم استحکام اور ادارتی آزادی پر خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
خواتین صحافیوں کو بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، جن میں آن لائن ہراسانی، سنسرشپ اور مالی پابندیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے خواتین صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو صنفی بنیاد پر ڈیجیٹل ہراسانی کے نئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
تاہم، رپورٹ میں کچھ مثبت پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں فروری 2026 میں امبرین جان کی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی پہلی خاتون سربراہ کے طور پر تقرری شامل ہے، جبکہ میڈیا میں خواتین کی قیادت کے فروغ کے لیے جاری اقدامات بھی نمایاں ہیں۔
صحافتی تنظیموں اور یونینز نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ آئی ایف جے کے تعاون اور نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی کے تحت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے)، ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان (ڈیجی میپ) اور کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے حکمت عملی، لیبر حقوق اور ممبران سے روابط کو مضبوط بنانے پر کام کیا۔
رپورٹ کے اختتام پر آئی ایف جے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سائبر کرائم قوانین میں “سخت” ترامیم کو واپس لیا جائے، صحافیوں پر حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور آزاد میڈیا پر معاشی دباؤ کا خاتمہ کیا جائے۔
656