97

جواب جمع کرانے کیلئے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا، اسد طور۔۔

صحافی اسد علی طور نے پیر کے روز کہا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے انہیں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت جاری انکوائری میں الزامات کا جواب دینے کے لیے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا، حالانکہ انہوں نے اپنا دفاع تیار کرنے کے لیے مزید مہلت کی درخواست کی تھی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسد علی طور نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے اہلکاروں نے 3 اگست کی صبح تقریباً 9 بج کر 20 منٹ پر ان کے گھر سمن پہنچایا، جس میں انہیں اسی روز صبح 11 بجے ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے اور انہیں تقریباً ساڑھے 10 بجے نوٹس کے بارے میں معلوم ہوا، جس کے باعث انہیں الزامات کا جائزہ لینے اور اپنا جواب تیار کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا۔اسد علی طور کے مطابق انہوں نے این سی سی آئی اے سے مزید مہلت دینے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری حکم نامے کا انتظار کرنے کی درخواست کی، کیونکہ عدالتی حکم سے انکوائری کے معاملے میں مزید وضاحت سامنے آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے وکیل مصدق خٹک ان کی جانب سے انکوائری افسر کے سامنے پیش ہوئے اور مزید وقت دینے کی درخواست کی۔ تاہم، این سی سی آئی اے نے ان کی پیشی اگلی صبح کے لیے مقرر کردی، جس کے نتیجے میں انہیں تحریری دفاع جمع کرانے کے لیے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت دیا گیا۔اسد علی طور نے لکھا، “ایک قانون پسند شہری کی حیثیت سے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل صبح، ان شاء اللہ، تمام متعلقہ مواد کے ساتھ اپنا دفاع جمع کراؤں گا۔انہوں نے اپنے حامیوں سے دعاؤں کی درخواست بھی کی۔خبر کی اشاعت تک این سی سی آئی اے کی جانب سے اسد علی طور کے تازہ الزامات پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔یہ پیش رفت این سی سی آئی اے کی جانب سے پیکا 2016 کی دفعہ 26 اے کے تحت شروع کی گئی انکوائری کے سلسلے میں سامنے آئی ہے۔ ایجنسی نے ابتدائی طور پر اسد علی طور کو 31 جولائی کو طلب کیا تھا۔ان پر مبینہ طور پر “جھوٹی یا جعلی معلومات پھیلانے، منتقل کرنے یا عوامی طور پر پیش کرنے” سے متعلق الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔اصل نوٹس موصول ہونے کے بعد اسد علی طور نے سمن کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ تفتیشی افسر سے درخواست کے باوجود انہیں نہ تو شکایت کی نقل فراہم کی گئی اور نہ ہی ان کے خلاف مخصوص الزامات سے آگاہ کیا گیا۔بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی تھی کہ انکوائری آگے بڑھانے سے قبل اسد علی طور کو ان کے خلاف الزامات کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اس ہدایت کے بعد عدالت نے ان کی درخواست نمٹا دی تھی۔اسد علی طور کے تازہ بیان کے مطابق انہوں نے ایجنسی سے یہ درخواست بھی کی کہ تفصیلی دفاع طلب کرنے سے پہلے عدالت کے تحریری حکم نامے کا انتظار کیا جائے۔پیر کی شام تک یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ اسد علی طور کی جانب سے ذکر کردہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری ہوچکا تھا یا نہیں، اور آیا این سی سی آئی اے ان کی مقررہ پیشی کے بعد انکوائری کی کارروائی آگے بڑھائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں