بول میں تنخواہوں کا بحران بدستور جاری ہے۔ جولائی اور اگست کی تنخواہیں تاحال عدم اد ئیگی کا شکار ہیں، جولائی کی تنخواہوں کی ادائیگی ایک لاکھ تک کے ملازمین کی ہو سکی ہےاُس میں بھی کچھ ملازمین ( جو 80 سے 95 ہزار والے ہیں ) یہ شکایت کرتے نظر آرہے ہیں کہ اُنکی تنخواہیں نہیں آئیں۔ اگست کا تو پُرسان حال ہی نہیں۔ پپو کے مطابق خاتون مالکن نے دفتر آنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے ملازمین کا سامنا کرنے کے لئے اپنے سی او او کو آگے کیا ہوا ہے اب وہ صرف دلاسے اور اُمید دلانے کی حد تک اپنا فرض نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پپو کے مطابق بول نیوز میں کام کرنے والوں کی زندگی عذاب بنی ہوئی ہے۔ چار سال سے کسی کی کوئی تنخواہ نہیں بڑھی، الٹا سیلری کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انکریمنٹ کا تو نام لینا ہی گناہ ہے کیوں کہ جہاں تنخواہ وقت پر نہ ملےوہاں انکریمنٹ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔۔ پپو کا مزید کہنا ہے کہ پک اینڈ ڈراپ ختم کر کے ملازمین کے اکاؤنٹ سے انھیں پک اینڈ ڈراپ لینے کا کہا جارہا ہے۔ کینٹن ختم کردی گئی ہے ۔۔ پورٹل کو ختم کر دیا گیا جس پر بول ملازمین کے حقوق کا کچھ تحفظ کیا جاتا تھا۔۔پپو کے مطابق اب نیا سلسلہ یہ شروع کیاگیا ہے کہ چھٹیاں بند کردی گئیں، کوئی بھی ایمرجنسی میں بھی چھٹی کرتا ہے تواسے شوکاز دیا جارہا ہے۔ چھاٹنیاں کرکرکے افرادی قوت بہت کم ہے اور ورک لوڈ بہت زیادہ ہے۔ چینل انتظامیہ نے ڈائیوو کمپنی سے لوگ لاکر لگا دیئے جنہیں نیوز کی اہمیت اور صحافیوں کی ورکنگ کا کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا وہ بول نیوز کو ڈائیوو بس سروس یا پنجاب سولڈ ویسٹ منیجمنٹ کے طرز پر چلانے کی کوشش میں ملازمین بشمول صحافیوں سے جبری مشقت لیتے نظر آتے ہیں۔پپو کے مطابق سالانہ چھٹیاں جو ملازمین کا حق ہوتا ہے اس کامتبادل تو دور کی بات انہیں بات کرنے کا بھی حق حاصل نہیں رہا۔۔۔
19
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل