shoaib jutt ne ghair ikhlaqi harkat ki 205

وکلا برادری کا اے آر وائی کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان۔۔۔

سندھ کی وکلا برادری نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چینل سندھ کی وحدت اور صوبے کی جغرافیائی یکجہتی کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹا، گمراہ کن اور من گھڑت پروپیگنڈا نشر کر رہا ہے۔ وکلا نے واضح کیا ہے کہ سندھ کے خلاف کسی بھی مبینہ مہم کا حصہ بننے والے میڈیا ادارے کو وکلا کی سرگرمیوں اور پروگراموں کی کوریج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وکلا برادری کی جانب سے سامنے آنے والے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ سندھ کی وحدت، تاریخی شناخت اور جغرافیائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ وکلا کا الزام ہے کہ اے آر وائی نیوز پر حالیہ عرصے کے دوران ایسا مواد اور بیانیہ نشر کیا گیا جو سندھ کی تقسیم یا صوبے کی موجودہ حیثیت سے متعلق تنازعات کو ہوا دینے کا سبب بن رہا ہے۔وکلا رہنماؤں کے مطابق آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت ہر میڈیا ادارے کا آئینی حق ہے، تاہم اس حق کو کسی صوبے، قومیت یا خطے کے خلاف مبینہ طور پر حقائق کے منافی مہم چلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافتی اداروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حساس قومی اور صوبائی معاملات پر رپورٹنگ کرتے وقت حقائق، توازن اور ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔اعلان کے مطابق وکلا برادری نے فیصلہ کیا ہے کہ اے آر وائی نیوز کے نمائندوں، رپورٹرز اور کیمرا ٹیموں کو سندھ میں وکلا کی جانب سے منعقد ہونے والی مختلف سرگرمیوں، پریس کانفرنسوں اور دیگر پروگراموں کی کوریج فراہم نہیں کی جائے گی۔ تاہم بائیکاٹ کا عملی دائرہ کار کن بار ایسوسی ایشنز یا عدالتوں تک ہوگا، اس حوالے سے مزید تفصیلی ہدایات سامنے آنے کی صورت میں صورتحال مزید واضح ہوگی۔ ۔وکلا برادری نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اختلافِ رائے اور سیاسی بحث کی گنجائش موجود ہے، تاہم سندھ کے وجود، شناخت اور جغرافیائی وحدت سے متعلق کسی بھی مبینہ غلط معلومات یا اشتعال انگیز بیانیے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ وکلا کا کہنا ہے کہ میڈیا اداروں کو صوبائی حساسیت سے متعلق موضوعات پر زیادہ ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔دوسری جانب اے آر وائی نیوز کی جانب سے وکلا برادری کے اس تازہ بائیکاٹ اور اس پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے کوئی واضح جواب دستیاب نہیں ہوسکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں