phase two ka ifteta marium nawaz khud karen 156

لاہور پریس کلب کے 194 اراکین کی رکنیت ختم ۔۔۔۔

لاہور پریس کلب میں ممبرشپ کی جانچ پڑتال کے بعد 194 اراکین کی رکنیت ختم کردی گئی ہے۔ جمعرات 20 اگست 2026 کو سامنے آنے والے اس فیصلے کو پریس کلب میں کونسل ممبرشپ کی اسکروٹنی اور ممبران کے صحافتی اداروں سے تعلق کی تصدیق کے جاری عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔لاہور پریس کلب کی موجودہ گورننگ باڈی کی سربراہی صدر ارشد انصاری کر رہے ہیں جبکہ افضال طالب جنرل سیکرٹری ہیں۔ ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائی میں ان اراکین کے کیسز کا جائزہ لیا گیا جن کی ممبرشپ کے لیے جمع کرائی گئی دستاویزات اور متعلقہ میڈیا اداروں سے وابستگی پر سوالات سامنے آئے تھے۔ اس عمل کے نتیجے میں 194 افراد کی ممبرشپ ختم کی گئی ہے۔ اس فیصلے کا پس منظر لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کے 15 جولائی 2026 کو ہونے والے اجلاس سے جڑا ہوا ہے۔ یہ اجلاس صدر ارشد انصاری کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا جس میں کلب کی ممبرشپ سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے تھے۔گورننگ باڈی نے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ ماضی میں جمع کرائے گئے ممبرشپ ریکارڈ اور صحافتی اداروں کی جانب سے دیے گئے تصدیقی خطوط کی جانچ کی جائے گی۔ لاہور پریس کلب کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق ایسے کیسز بھی سامنے آئے تھے جن میں میڈیا اداروں کے جعلی لیٹرز جمع کرانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ گورننگ باڈی نے قرار دیا تھا کہ متعلقہ اداروں سے تصدیق کے بعد ایسے ممبران کی ممبرشپ منسوخ کردی جائے گی۔تاہم اس مرحلے پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آج رکنیت سے محروم کیے گئے تمام 194 افراد کے انفرادی کیسز کی مکمل تفصیلات یا ان کے خلاف الگ الگ وجوہات کی فہرست عوامی طور پر دستیاب نہیں، اس لیے ہر متاثرہ رکن کے بارے میں جعلی دستاویزات جمع کرانے کا دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی نے جولائی کے اجلاس میں ایک اہم فرق بھی واضح کیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے صحافی جو حقیقی طور پر صحافت سے وابستہ رہے لیکن ادارے کی بندش، برطرفی یا دیگر وجوہات کی بنا پر بے روزگار ہوگئے ہیں، ان کی ممبرشپ ختم نہیں کی جائے گی۔کلب نے اعلان کیا تھا کہ بے روزگار ممبران کی رکنیت برقرار رہے گی اور انہیں لاہور پریس کلب میں دستیاب سہولیات سے مستفید ہونے کا حق حاصل ہوگا۔اس پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکروٹنی کا بنیادی ہدف باضابطہ صحافتی تجربہ رکھنے والے بے روزگار صحافی نہیں بلکہ ایسے کیسز ہیں جہاں رکنیت کے لیے فراہم کردہ صحافتی وابستگی یا دستاویزات کی صحت پر سوالات موجود ہوں۔گورننگ باڈی نے صرف پرانی رکنیتوں کی جانچ کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ نئے اہل صحافیوں کے لیے ممبرشپ کا راستہ کھولنے کا بھی اعلان کیا تھا۔15 جولائی کے اجلاس میں متفقہ طور پر دو سال قبل وصول کیے گئے ممبرشپ فارمز پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کلب انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ایسے پروفیشنل صحافی جو کئی برس سے لاہور پریس کلب کی ممبرشپ سے محروم ہیں اور کلب کے آئین کے مطابق رکنیت کے اہل ہیں، انہیں میرٹ پر کونسل ممبرشپ دی جائے گی۔ایک ہی مرحلے میں 194 اراکین کی رکنیت ختم ہونا لاہور پریس کلب کی حالیہ تاریخ میں ممبرشپ کے حوالے سے ایک بڑی انتظامی کارروائی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف کلب کی ووٹر لسٹ اور کونسل ممبران کی مجموعی تعداد متاثر ہوسکتی ہے بلکہ مستقبل کے انتخابات میں ووٹر لسٹ کی تشکیل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔اس فیصلے کے بعد اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا رکنیت سے محروم کیے گئے افراد کو انفرادی طور پر ان کے کیسز اور رکنیت منسوخ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا ہے اور کیا انہیں فیصلے کے خلاف اپیل یا نظرثانی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔خبر لکھے جانے تک 194 متاثرہ اراکین کی جانب سے کسی مشترکہ ردعمل یا قانونی کارروائی کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اگر متاثرہ اراکین ممبرشپ ختم کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہیں تو معاملہ لاہور پریس کلب کے اندر انتظامی اور انتخابی بحث کا باعث بھی بن سکتا ہے۔دوسری جانب کلب انتظامیہ کے پہلے سے اعلان کردہ مؤقف کے مطابق ممبرشپ کی جانچ کا مقصد اہل اور حقیقی پروفیشنل صحافیوں کی نمائندگی یقینی بنانا اور ایسی رکنیتوں کو ختم کرنا ہے جو کلب کے آئینی اور پیشہ ورانہ معیار پر پورا نہیں اترتیں۔لاہور پریس کلب کی جولائی میں اعلان کردہ پالیسی میں ایک جانب مشکوک دستاویزات کی تصدیق اور رکنیت کی جانچ پر سخت مؤقف اختیار کیا گیا تھا، جبکہ دوسری جانب بے روزگار صحافیوں کی رکنیت اور کلب کی سہولیات برقرار رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں