لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر سلمان قریشی، نائب صدر ناصر ہ عتیق، نائب صدر مدیحہ الماس، جنرل سیکریٹری افضال طالب، جوائنٹ سیکریٹری عمران شیخ، فنانس سیکریٹری سالک نواز اور اراکینِ گورننگ باڈی نے سینئر صحافی اور اینکر پرسن نجم ولی خان کو نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی آئی اے) کی جانب سے نوٹس موصول ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔اس ضمن میں سینئر صحافی نجم ولی خان این سی آئی اے کے دفتر پیش ہوئے، جہاں ان کے ہمراہ سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی، سلمان غنی، فرخ شہباز وڑائچ سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ نجم ولی خان ایک اخبار کے ایڈیٹر ہیں اور اخبارات پاکستان پریس کونسل کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجم ولی نے توفیق بٹ کے کالم کو سوشل میڈیا پر وائرل نہیں کیا، لہٰذا انہیں این سی آئی اے کی جانب سے دیا جانے والا نوٹس غیر قانونی ہے۔اس سے قبل این سی آئی اے کی جانب سے توفیق بٹ کو جاری کیے گئے نوٹس میں کسی کا نام نہ لکھا جانا بھی غیر قانونی قرار دیا گیا۔ صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت درجنوں صحافیوں پر مقدمات درج کروائے جا چکے ہیں، اور جب دل چاہے کسی بھی صحافی کو این سی آئی اے نوٹس بھیج دیا جاتا ہے، جسے ہم آزادیٔ صحافت اور آزادی اظہار کے منافی سمجھتے ہیں۔ارشد انصاری نے کہا کہ اس وقت پیکا کے کالے قانون کے خلاف پاکستان بھر کی صحافی برادری سراپا احتجاج ہے اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس عدالتی جنگ لڑ رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ہم ایسے نوٹس اور ناجائز مقدمات سے ڈرنے والے نہیں، اگر یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو ملک بھر کی صحافی برادری احتجاج کرے گی۔
75
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل