12

این سی سی آئی اے کے ہاتھو ں لاہور کا صحافی گرفتار۔۔۔

روزنامہ صحافت سے وابستہ رپورٹر فراز عدیم کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی(این سی سی آئی اے)نے گرفتار کر لیا ہے۔فراز عدیم کی گرفتاری کی اطلاع سامنے آنے کے بعد لاہور کی صحافتی برادری میں معاملے سے متعلق مزید تفصیلات جاننے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم خبر فائل کیے جانے تک NCCIA کی جانب سے گرفتاری کے حوالے سے تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔تاحال یہ بھی باضابطہ طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ فراز عدیم کو کس مقام سے اور کس وقت حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف درج مقدمے میں PECA یا کسی دوسرے قانون کی کون سی دفعات شامل کی گئی ہیں۔اسی طرح NCCIA کی جانب سے ابھی تک وہ مبینہ سوشل میڈیا پوسٹ، ڈیجیٹل مواد یا آن لائن سرگرمی بھی عوامی سطح پر سامنے نہیں لائی گئی جسے فراز عدیم کے خلاف کارروائی کی بنیاد بنایا گیا ہے۔فراز عدیم لاہور میں طویل عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ دستیاب سابقہ ریکارڈ کے مطابق وہ صحافتی تنظیموں میں بھی فعال رہے ہیں اور ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے عہدیدار کے طور پر کام کر چکے ہیں۔۔NCCIA ملک میں سائبر کرائم سے متعلق مقدمات اور شکایات کی تحقیقات کرنے والا وفاقی ادارہ ہے اور آن لائن ہراسانی، فراڈ، ڈیجیٹل جرائم اور دیگر سائبر کرائم کیسز کی تحقیقات کرتا ہے۔فراز عدیم کی گرفتاری کے بعد اب اہم پیش رفت ان کے خلاف درج مقدمے یا انکوائری کی تفصیلات سامنے آنا ہوگی۔ ایف آئی آر، مقدمہ نمبر، شکایت کنندہ، گرفتاری کا مقام، گرفتاری کا وقت اور عائد کی گئی قانونی دفعات سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ NCCIA نے انہیں کس مخصوص الزام کے تحت گرفتار کیا ہے۔خبر فائل کیے جانے تک فراز عدیم کے اہل خانہ، روزنامہ صحافت یا NCCIA کی جانب سے گرفتاری کی مکمل تفصیلات پر مشتمل باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا تھا۔
دوسری طرف روزنامہ صحافت سے وابستہ رپورٹر فراز عدیم کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے گرفتاری نے ایک بار پھر پاکستان میں آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کو حاصل قانونی تحفظ سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعے کے بعد صحافتی حلقوں میں اس امر پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ سائبر کرائم قوانین کے تحت صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔
فراز عدیم لاہور کی صحافتی برادری کا حصہ ہیں اور مختلف صحافتی سرگرمیوں میں بھی متحرک رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے تحت صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات، طلبیوں اور قانونی کارروائیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔پاکستان میں سائبر کرائم کے قانونی فریم ورک میں جنوری 2025 میں اہم تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو 29 جنوری 2025 کو صدارتی منظوری کے بعد قانون کا حصہ بنایا گیا۔ ان ترامیم نے NCCIA کو سائبر کرائم سے متعلق جرائم کی تحقیقات میں مرکزی کردار دیا۔ترمیم شدہ قانون میں شامل سیکشن 26-A کے تحت جان بوجھ کر ایسی معلومات آن لائن پھیلانا جرم قرار دیا گیا ہے جن کے بارے میں متعلقہ شخص جانتا ہو یا اسے یقین کرنے کی وجہ ہو کہ وہ غلط یا جعلی ہیں اور ان سے معاشرے میں خوف، افراتفری یا بے چینی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس جرم میں تین سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔تاہم ان ترامیم کی منظوری کے آغاز ہی سے ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے تھے۔ ناقدین کا مؤقف رہا ہے کہ ’’فیک نیوز‘‘ اور نقصان دہ معلومات کی تشریح اگر واضح قانونی حدود کے بغیر کی جائے تو اس کے نتیجے میں تحقیقاتی صحافت، تنقیدی رپورٹنگ اور سیاسی و سماجی معاملات پر اظہارِ رائے بھی قانونی کارروائی کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ PECA کا مقصد آزادیٔ صحافت کو محدود کرنا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں، ہراسانی، غیر قانونی مواد اور دیگر آن لائن جرائم کا سدباب کرنا ہے۔
فریڈم نیٹ ورک پاکستان کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا پریکٹیشنرز کے خلاف قانونی کارروائیوں، قانونی دھمکیوں، ڈیجیٹل خطرات، گرفتاریوں اور سنسرشپ سمیت 11 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے چھ واقعات PECA یا NCCIA کی تحقیقات سے متعلق تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں پنجاب چھ کیسز کے ساتھ سرفہرست تھا۔یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کا حق تسلیم کرتا ہے، اگرچہ یہ حق آئین میں متعین قانونی پابندیوں سے مشروط ہے۔ قانونی ماہرین کے لیے فراز عدیم کا معاملہ چند بنیادی سوالات کو دوبارہ سامنے لاتا ہے: آیا زیرِ اعتراض مواد کسی صحافی کی پیشہ ورانہ رپورٹنگ کا حصہ تھا یا ذاتی آن لائن سرگرمی، کارروائی سے قبل متعلقہ مواد کی قانونی جانچ کس بنیاد پر کی گئی، گرفتاری کی ضرورت کیوں پیش آئی، اور کیا صحافی کو آئین اور فوجداری قانون کے تحت حاصل تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے؟ماضی میں بھی پارلیمانی سطح پر PECA کے ممکنہ غلط استعمال پر تحفظات سامنے آ چکے ہیں۔ ستمبر 2025 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر علی ظفر نے کہا تھا کہ PECA کو صحافیوں یا شہریوں کے خلاف سنسرشپ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔فراز عدیم کی گرفتاری کے معاملے میں اب سب سے اہم مرحلہ قانونی کارروائی کا ہوگا۔ مقدمے کی دفعات، الزام کی نوعیت، زیرِ اعتراض ڈیجیٹل مواد، عدالت کے سامنے NCCIA کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد اور دفاعی مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی معاملے کی مکمل قانونی تصویر واضح ہوسکے گی۔تاہم اس گرفتاری نے ایک مرتبہ پھر یہ بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ سائبر کرائم سے نمٹنے اور آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے درمیان قانونی توازن کیسے برقرار رکھا جائے؟ صحافتی برادری کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ کسی صحافی کے خلاف اس کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق شکایت کی صورت میں شفاف قانونی طریقۂ کار اپنایا جائے اور گرفتاری یا دیگر سخت اقدامات کو صحافت اور اختلافِ رائے پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر گرفتاری میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، جبکہ اگر کوئی قابلِ تعزیر جرم موجود ہے تو کارروائی کو مکمل شفافیت، آئینی ضمانتوں اور عدالتی نگرانی کے تحت آگے بڑھایا جائے۔آزادیٔ صحافت کا مطلب قانون سے بالاتر ہونا نہیں، لیکن قانون کا مطلب بھی یہ نہیں کہ اختلافی یا تنقیدی آواز کو بغیر قانونی بنیاد کے خاموش کر دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں