لاہور ہائیکورٹ نے سینئر صحافی عمران شفقت کی آئینی درخواست پر این سی سی آئی اے ملتان کو ان کے خلاف تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم دے دیا۔مسٹر جسٹس خالد اسحاق نے درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد حکم امتناعی جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے میاں دائود ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی درخواست پر این سی سی آئی اے ملتان نے لاہور کے رہائشی عمران شفقت کے خلاف انکوائری شروع کی، حالانکہ ادارہ اپنی نوٹیفائیڈ علاقائی حدود سے باہر کسی دوسرے ضلع کے رہائشی کی درخواست پر کارروائی کا مجاز نہیں۔وکیل نے مزید مؤقف اپنایا کہ این سی سی آئی اے ملتان کی کارروائی بدنیتی اور اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اعلیٰ عدلیہ متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ علاقائی حدود اور دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے کی گئی کارروائیاں بنیادی آئینی حقوق سے متصادم ہیں۔عدالت نے این سی سی آئی اے ملتان کو عمران شفقت کے خلاف تادیبی کارروائی سے روکتے ہوئے ہدایت کی کہ صحافی 4 اگست کو انکوائری افسر کے روبرو ذاتی حیثیت میں یا اپنے وکیل کے ذریعے نوٹس کا جواب جمع کرائیں۔لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی۔
111
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل