mulk mein sahafat ko jurm banadia gya 141

صحافی برادری کی ہراسمنٹ برداشت نہیں کرینگے، کراچی پریس کلب۔۔۔

کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری اسلم خان اور مجلس عاملہ نے کراچی پریس کلب کے سینئر ممبر، روزنامہ نئی بات کے رپورٹر مرتضی کے زلفی اور کالم نگار توفیق بٹ کو این سی سی آئی اے کی جانب سے پیکا ایکٹ کے تحت نوٹسز جاری کیے جانے پر شدید تحفظات اور گہری تشویش کا اظہار کیاہے۔ کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران اس نوعیت کے نوٹسز کا اجرا آزادی صحافت پر سوالیہ نشان ہے۔ کراچی پریس کلب ہمیشہ صحافیوں کے حقوق، آزادی اظہار اور پیشہ ورانہ تحفظ کے لیے آواز بلند کرتا رہا ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کو جو صحافتی آزادی کو متاثر کرے، قابلِ مذمت سمجھتا ہے- پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن کی شکایت پر ایک اخبار اور اس کے کالم نگار توفیق بٹ کو این سی سی آئی اے کی جانب سے اس بنیاد پر نوٹس جاری کرنا کہ کالم میں سول سرونٹ کو بدنام کرنے کے لئے “بیورو کرپٹس ” کی اصطلاح استعمال کی گئی، آزادی صحافت، عوامی مباحثے، اظہار رائے کی آزادی اور عوام کے حق آگاہی پر براہ راست حملہ ہے، صحافیوں کا اپنی تحریر میں اصطلاحات کا استعمال آزاد صحافت اور زبان وبیان کی خوبصورتی میں شمار کیا جانا چاہئے ناکہ اس طرز تحریر کو صحافیوں اور صحافتی اداروں پر قدغن لگانے کیلئے استعمال کیا جائے، اسی طرح پریس کلب کے سینئر ممبر اور روزنامہ نئی بات کے رپورٹر مرتضی کے زلفی کو ایک کوآپریٹو سوسائٹی کی جانب سے ہراساں کرنے اور پیکا ایکٹ کے تحت نوس جاری کرنے کی بھی مذمت کی ہے – کراچی پریس کلب نے این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نوٹسزکے پس منظر اور قانونی جواز پر نظرِ ثانی کرے اور صحافتی برادری کو غیر ضروری دبائو سے بچانے کے لیے شفاف اور واضح پالیسی اختیار کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافی برادری کو ہراساں کرنے کے کسی بھی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا-اس طرح کے ہتھکنڈوں سے صحافی پہلے مرعوب ہوئے ہیں اور نہ اب ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں