سینئر صحافی عامر غوری نے کہا ہے کہ صحافت وقت کے ساتھ تیزی سے بدل رہی ہے، صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ ساتھ تحقیق، مطالعے اور حقائق کی جانچ پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی، صحافت کا بنیادی مقصد معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنا اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنا ہے۔وہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) دستور اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) دستور کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ پروگرام “صحافت بیتی” میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ تقریب کی نظامت نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے کی۔عامر غوری نے اپنے صحافتی سفر اور تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے تین سال تک فرنٹیئر پوسٹ میں کام کیا، جہاں صحافت کے بڑے نام موجود تھے۔ اس دور میں خبر نہ ملنے کی صورت میں صحافی تحقیق اور محنت سے خبر تلاش کرتے اور بعض اوقات ایسی کہانیاں سامنے لاتے جو معاشرے کے پوشیدہ مسائل کو اجاگر کرتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ صحافی کو صرف سرکاری بیانات یا پریس ریلیز تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنے معاشرے، علاقے اور عوام کے مسائل سے باخبر ہونا چاہیے۔ ایک اچھا صحافی وہی ہے جو سوال اٹھاتا ہے، معلومات حاصل کرتا ہے اور حقائق کو جانچنے کے بعد خبر سامنے لاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نوجوانوں کے لیے امید کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں میڈیا کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ صحافت کو نوجوانوں کے مسائل، روزگار، تعلیم اور معاشرتی مشکلات کو اجاگر کرنا ہوگا۔عامر غوری نے خواتین کی آبادی اور ان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے ان کے مسائل، حقوق اور تحفظ کو صحافت میں مناسب جگہ ملنی چاہیے۔ میڈیا کو معاشرے کے ہر طبقے کی آواز بننا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صحافت میں فریڈم آف انفارمیشن اور معلومات تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم صحافی کے لیے اپنے علاقے اور معاشرے کے بارے میں معلومات رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک صحافی اسلام آباد میں کام کرتا ہے تو اسے شہر کی اہم عمارتوں، اداروں اور حکومتی نظام کے بارے میں بنیادی معلومات ضرور ہونی چاہئیں۔سینئر صحافی نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی آنے والے وقت میں صحافت کا اہم حصہ بنے گی اور صحافیوں کو اس ٹیکنالوجی کو سمجھنا اور استعمال کرنا ہوگا، تاہم سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اے آئی یا سوشل میڈیا سے ملنے والی معلومات درست ہیں یا نہیں۔ صحافی کو ہر معلومات کی تصدیق کے بعد اسے خبر کا حصہ بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آج سوشل میڈیا پر جذبات اور وائرل مواد کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ صحافت میں حقائق کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ صحافی کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کوئی خبر واقعی درست ہے یا محض سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک بات ہے۔عامر غوری نے کہا کہ صحافی کے لیے وسیع مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ اگر کسی صحافی نے تاریخ، سیاست، معیشت، سائنس اور دیگر شعبوں کا مطالعہ کیا ہو تو وہ کسی بھی خبر میں موجود تضادات اور غلط بیانی کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت کے لیے ضروری ہے کہ صحافی کسی ایک شعبے میں مہارت حاصل کرے اور اس شعبے کے بارے میں مسلسل مطالعہ کرے۔ اگر کوئی صحافی حکومت کے معاملات پر نظر رکھنا چاہتا ہے تو اسے حکومتی اداروں، قوانین، عدالتی فیصلوں اور پارلیمانی کارروائی کا علم ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو صرف مقبولیت یا ریٹنگ کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ صحافت کا اصل مقصد معاشرے کو معلومات فراہم کرنا، حکمرانوں اور اداروں کا احتساب کرنا اور عام آدمی کے مسائل کو سامنے لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے تمام افراد، رپورٹر، کیمرہ مین، ایڈیٹر اور دیگر تکنیکی کارکن، صحافت کا اہم حصہ ہیں اور ان کی خدمات کو بھی مناسب اہمیت ملنی چاہیے۔عامر غوری نے کہا کہ پاکستان میں صحافت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف پیشہ ورانہ معیار بہتر بنا کر کیا جا سکتا ہے۔ صحافی کو اپنی خبر کے لیے مضبوط حوالہ، دستاویزات اور شواہد تلاش کرنے چاہئیں اور کسی بھی دعوے کو بغیر تصدیق کے آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے والے معاملات کو ذمہ داری سے رپورٹ کرنا چاہیے۔ میڈیا کو لوگوں کو جوڑنے اور قومی مسائل پر مثبت مکالمے کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔پروگرام میں پی ایف یو جے دستور کے صدر حاجی نواز رضا، آر آئی یو جے کے صدر رانا کوثر علی، نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، آر آئی یو جے کے سیکرٹری فنانس رازق بھٹی، سینئر صحافی ڈاکٹر سعدیہ کمال، ناصر میر، جاوید اقبال، سید محسن رضا، نیشنل پریس کلب کی ممبر گورننگ باڈی عائشہ ناز، اسحاق چوہدری، سید قیصر عباس شاہ، نوید احمد شیخ اور خاور نواز راجہ سمیت دیگر سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر سینئر صحافی عامر غوری کو ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں شیلڈ بھی پیش کی گئی۔
73
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل