288

کراچی میں صحافی کے گھر پر فائرنگ،جانی نقصان نہیں ہوا۔۔

کراچی کے علاقے شاہ لطیف میں صحافی کے گھر پر موٹرسائیکل سوارو ں کی اندھا دھند فائرنگ۔۔خوش قسمتی سے کوئی جان نقصان نہیں ہوا، ورکنگ جرنلسٹس فورم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع ملیر سے وابستہ صحافی جاوید احمد جو ٹی وی ٹودے کے نمائندے بھی ہیں کے گھر پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔۔اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے جاوید احمد کے گھر پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گھر کے مرکزی دروازے پر دو گولیاں لگیں۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم یہ واقعہ نہایت تشویشناک ہے اور اس سے صحافیوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ورکنگ جرنلسٹس فورم اس امر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ جاوید احمد نے 23 جولائی 2026 کو تھانہ شاہ لطیف میں نامزد ملزمان کے خلاف باقاعدہ درخواست جمع کرائی تھی، جس میں مسلسل تعاقب، موبائل فون پر موصول ہونے والی دھمکیوں، متعلقہ موبائل نمبرز اور مشتبہ افراد کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ اس کے باوجود اگر بروقت اور مؤثر پولیس حکمتِ عملی اختیار کی جاتی تو آج یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔ورکنگ جرنلسٹس فورم سوال کرتا ہے کہ آخر پولیس کس بڑے سانحے کی منتظر تھی؟ جب ایک صحافی پہلے ہی اپنی جان کو لاحق خطرات سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کر چکا تھا تو پھر حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ آج گولیاں دروازے پر لگی ہیں، کل یہی گولیاں کسی بے گناہ کی جان بھی لے سکتی تھیں۔ہم سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ایس ایس پی ملیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، متعلقہ پولیس افسران کی غفلت کی تحقیقات کی جائیں اور جاوید احمد سمیت تمام صحافیوں کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ورکنگ جرنلسٹس فورم واضح کرتا ہے کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور آواز ہوتے ہیں۔ اگر صحافی ہی محفوظ نہیں ہوں گے تو وہ اپنے صحافتی فرائض آزادانہ، بے خوف اور غیر جانبدارانہ انداز میں کیسے انجام دے سکیں گے؟ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس سے کسی صورت غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں