کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے ) کے ممبر زوہیب جئے جاکے بھائی اور بھابھی کے ساتھ پیش آنے والے ڈکیتی کے واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے مبینہ غفلت اور عدم دلچسپی پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کرائمُرپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سمیر قریشی و جنرلُ سیکریٹری ندیم احمد نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ واقعے کو ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود نہ تو تھانہ جمشید کوارٹر نے واقعہ کا مقدمہ درج کیا اور نہ ہی ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیرکی جانب سے رابطہ کرنے پر مثبت پیش رفت سامنے آئی۔ کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں فوری اور مؤثر کارروائی پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ابتدائی شواہد اور تکنیکی معلومات کی بروقت جانچ نہ صرف ملزمان کی گرفتاری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ شہریوں کے پولیس پر اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ ایسوسی ایشن نے صوبائی وزیر داخلہ و آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مقدمہ درج کرکے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی شواہد حاصل کیے جائیں اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شہریوں کی شکایات پر بروقت کارروائی نہ ہونا پولیس کے عوامی تشخص اور اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ اعلیٰ پولیس حکام اس معاملے میں فوری مداخلت کرکے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔
75
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل