136

صحافی رضی طاہر ضمانت خارج ہونے پر کمرۂ عدالت سے گرفتار

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، نے صحافی اور یوٹیوبر رضی طاہر کو ضمانت قبل از گرفتاری خارج ہونے کے بعد اسلام آباد کی مقامی عدالت سے گرفتار کر لیا۔ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے رضی طاہر کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے رضی طاہر کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کر دی، جس کے فوری بعد این سی سی آئی اے حکام نے انہیں کمرۂ عدالت سے حراست میں لے لیا۔رضی طاہر کے خلاف مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، پیکا، کے تحت درج کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مقدمے میں پیکا کی دفعہ 20 اور دفعہ 26-A شامل کی گئی ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ رضی طاہر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایسی معلومات شیئر کی گئیں جو مبینہ طور پر گمراہ کن تھیں اور جن سے ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی یا عوامی بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔رپورٹس کے مطابق معاملہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایک سابق اعلیٰ شخصیت کی مبینہ ملاقات سے متعلق متنازع خبر سے جڑا ہے۔ اس سے قبل رضی طاہر عبوری ضمانت پر تھے اور عدالت نے 16 جون کو این سی سی آئی اے کی جانب سے مکمل ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر ان کی ضمانت میں 23 جون تک توسیع کی تھی۔صحافی رضی طاہر نے اپنے خلاف درج مقدمے کو چیلنج کر رکھا تھا۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ حکام خبر کے ذرائع سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ صحافتی ذرائع کا تحفظ صحافت کا بنیادی اصول ہے۔صحافتی اور حقوقِ انسانی حلقوں نے اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیکا قوانین کا صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف استعمال آزادیٔ اظہار اور صحافتی آزادی کے لیے سوالات پیدا کرتا ہے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ جعلی یا گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ریاستی ذمہ داری ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق ضمانت قبل از گرفتاری خارج ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم پر جرم ثابت ہو گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عدالت نے اس مرحلے پر گرفتاری سے تحفظ جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ شواہد، تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں