اسلام آباد کی عدالت نے صحافی رضی طاہر کو منگل کے روز این سی سی آئی اے سے متعلق ایک مقدمے میں تئیس جون تک قبل از گرفتاری ضمانت دے دی۔۔ عدالت نے اس سے قبل دی گئی آٹھ روزہ عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے انہیں مزید ریلیف فراہم کیا۔سماعت سے قبل رضی طاہر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ کیس کی سماعت جج افضل مجوکا کی عدالت میں ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکام ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں، جسے وہ عدالت میں چیلنج کر چکے ہیں، ان سے ایک خبر کے ذرائع کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا چاہتے ہیں۔رضی طاہر کا مؤقف ہے کہ صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور قانونی ضمانتیں حکام کو اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ وہ صحافیوں کو اپنے خفیہ ذرائع ظاہر کرنے پر مجبور کریں۔ ان کے اس مؤقف نے اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے حامی حلقوں کی توجہ حاصل کی ہے، جو اس مقدمے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) سے وابستہ اہلکاروں نے مقدمے کی تفصیلات فراہم کیے بغیر اور پیشگی اطلاع کے بغیر رضی طاہر کو گرفتاری وارنٹ دینے کی کوشش کی۔کونسل نے اپنے ترجمان کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ایف آئی اے سے منسلک اہلکاروں کا رضی طاہر کی رہائش گاہ اور مقامی پولیس اسٹیشن جانا شفافیت اور قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے زور دیا کہ صحافیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی میں قانونی اور آئینی تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر میڈیا سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا ہوا تو اس سے خوف اور دباؤ کی فضا جنم لے سکتی ہے۔کونسل نے متعلقہ حکام اور اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کا جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ تنظیم نے صحافتی آزادی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے خلاف تمام قانونی کارروائیاں مکمل ضابطۂ قانون اور شفاف طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہئیں۔
237
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل