242

فیاض الحسن چوہان نے معافی مانگ لی

پنجاب اسمبلی کے باہر صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے میڈیا سے بات کرنے کی کوشش کی جس پر صحافیوں نے شدید احتجاج کیا اور بائیکاٹ بائیکاٹ کے نعرے لگائے جس پر مباحثے کے بعد انہوں نے اپنے رویے پر معافی مانگ لی۔ فیاض الحسن چوہان پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا کے مائیکس دیکھ کر ان کے پاس آئے جس پر صحافیوں نے نعرے بازی شروع کردی، اسی شور شرابے میں انہوں نے کہا کہ میں آپ کو سارا معاملہ کلیئر کررہا ہوں جس پر صحافیوں نے انہیں جواب دیا کہ آپ نہ بولیں۔وزیر اطلاعات پنجاب کہتے رہیں میری بات سن لیں، بس ہوگیا اب تو سن لیں جس کے بعد انہوں نے اپنے کل کے رویے کا پس منظر بتاتے ہوئے صحافیوں کو کہا کہ میں ایک چیز کلئیر کردوں کہ آپ کو پس منظر کا پتا نہیں۔ صحافیوں نے خاموشی اختیار کی تو فیاض الحسن چوہان نے کہا ‘قاضی حسین احمد کی یاد میں تقریر سے پہلے میرے ڈرائیور نے ایک چٹ دی جس پر تحریر تھا آپ کی اہلیہ سروسز اسپتال میں بےہوش پڑی ہیں۔ جس پر صحافیوں نے کہا اللہ آپ کی اہلیہ کو صحت دے، جس کے بعد فیاض الحسن چوہان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا میں نے روتے روتے قاضی حسین احمد کی یاد میں تقریر کی، صحافی نے کہا آپ قاضی حسین کی بات کررہے ہیں اور امیر جماعت عمران خان کے لیے یہ باتیں کر گئے، موقع کی مناسبت سے یہ بات غلط تھی۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا ٹینشن میں تھا، اس طریقے سے جواب دے گیا، اگر کسی کو برا لگا ہے تو معافی مانگتا ہوں۔

How to Write for Imran Junior website

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں