155

پیکا کے تحت میڈیا پر دباؤ، آزادیٔ صحافت متاثر

پاکستان میں 2025 کے دوران میڈیا کو شدید دباؤ کا سامنا رہا، جہاں نئے قانونی اقدامات، معاشی دباؤ اور صحافیوں کے خلاف ہدفی کارروائیوں نے آزادیٔ صحافت میں نمایاں کمی پیدا کی۔ یہ انکشاف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
“اسٹیٹ آف ہیومن رائٹس 2025” کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق اظہارِ رائے کی آزادی سال بھر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بنیادی حقوق میں شامل رہی، جبکہ حکام نے اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے قانونی اور انتظامی ذرائع کا بڑھ چڑھ کر استعمال کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں 2025 کے اوائل میں کی جانے والی ترامیم ایک اہم پیش رفت تھیں، جنہیں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے ان ترامیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ آئینی تحفظات اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کو کمزور کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال بھر ان خدشات نے عملی شکل اختیار کی، جہاں متعدد صحافیوں کے خلاف “جھوٹی معلومات” پھیلانے یا “ریاست مخالف سرگرمیوں” میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاستی اداروں پر تنقید کرنے والے افراد کو تحقیقات، گرفتاریوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعض کیسز میں بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے گئے۔ کچھ صحافیوں کے اہل خانہ بھی مالی تحقیقات سے متاثر ہوئے۔
دستاویزی واقعات میں صحافی وحید مراد کو مبینہ طور پر اسلام آباد میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں پیکا کے تحت عدالت میں پیش کیا گیا۔ صحافی خالد جمیل کو گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا، جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی 2026 تک جاری رہی۔ تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے اور ان کے آن لائن مواد تک پاکستان میں رسائی محدود کر دی گئی۔
رپورٹ میں سہرب برکت کی گرفتاری اور مطیع اللہ جان کو درپیش قانونی مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں ان کے خاندان سے منسلک مالی اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کے دعوے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سال کے دوران کم از کم 27 یوٹیوب چینلز کو “ریاست مخالف مواد” پھیلانے کے الزامات پر عارضی طور پر معطل کیا گیا۔
قانونی اقدامات کے علاوہ رپورٹ میں صحافیوں کو درپیش جسمانی خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اکتوبر میں اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب پر پولیس کے چھاپے اور احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر مبینہ تشدد کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے مطابق سال کے دوران پانچ صحافی قتل کیے گئے، جبکہ ہراسانی، قانونی کارروائیوں اور میڈیا دفاتر پر حملوں کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
ایچ آر سی پی رپورٹ کے مطابق معاشی دباؤ بھی ادارتی آزادی کو متاثر کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بنا۔ خاص طور پر ڈان میڈیا گروپ سمیت تنقیدی میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات کی عدم فراہمی کو مالی دباؤ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام عوامل—قانونی خطرات، جسمانی حملوں اور معاشی دباؤ—نے خود سنسرشپ کے رجحان کو بڑھایا، جس کے باعث صحافیوں نے حساس موضوعات، خصوصاً جبری گمشدگیوں اور ریاستی اداروں سے متعلق معاملات پر رپورٹنگ سے گریز کیا۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کی صورتحال متاثر ہوئی، جہاں 2025 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 180 ممالک میں سے 158ویں نمبر پر آ گیا، جو میڈیا پر بڑھتی پابندیوں، سنسرشپ اور معاشی چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں