93

عالمی یوم فوٹوگرافی فوٹو جرنلسٹس کو ورکنگ جرنلسٹس فورم کا خراج تحسین۔۔

ورکنگ جرنلسٹس فورم کے مرکزی صدر میاں خرم شہزاد اور مرکزی جنرل سیکریٹری ساجد احمد نے 19 اگست کو منائے جانے والے عالمی یوم انسان دوستی اور عالمی یومِ فوٹوگرافی کے موقع پر دنیا بھر کے انسان دوست کارکنوں، صحافیوں، فوٹوگرافرز اور شعبۂ صحافت سے وابستہ تمام افراد کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ انسان دوستی کسی ایک قوم، مذہب یا خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ عالمی یومِ انسان دوستی ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ مشکل، جنگ، قدرتی آفات، غربت اور دیگر انسانی بحرانوں میں متاثرہ افراد کا ساتھ دینا اور ان کے حقوق و وقار کا تحفظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اقوامِ متحدہ بھی 19 اگست کو انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکنوں اور بحرانوں سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے دن کے طور پر مناتا ہے۔ میاں خرم شہزاد اور ساجد احمد نے کہا کہ صحافت بھی دراصل انسان دوستی کی ایک مؤثر شکل ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی معاشرے کے کمزور، مظلوم اور نظرانداز کیے جانے والے طبقات کی آواز بنتا ہے اور مسائل کو اقتدار کے ایوانوں اور عوام کے سامنے اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یوم فوٹوگرافی کے موقع پر ہم بالخصوص فوٹو جرنلسٹس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جو اپنے کیمرے کے ذریعے تاریخ کے اہم ترین لمحات، معاشرتی مسائل، انسانی دکھ، خوشیاں، قدرتی آفات، جرائم اور عوامی جدوجہد کو محفوظ کرتے ہیں۔ فوٹو جرنلسٹ کا کیمرہ محض ایک تصویر بنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ تاریخ کا عینی شاہد، معاشرے کا آئینہ اور بعض اوقات ایک خاموش مگر انتہائی طاقتور گواہ ہوتا ہے۔ ایک مؤثر تصویر وہ حقیقت دنیا کے سامنے لاسکتی ہے جسے ہزاروں الفاظ بھی پوری طرح بیان نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ورکنگ جرنلسٹس فورم کے تمام صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس سے اپیل ہے کہ وہ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انسانی ہمدردی، صحافتی ذمہ داری، سچائی، حقائق اور عوامی مسائل کو اپنی رپورٹنگ اور فوٹوگرافی کا مرکز بنائیں۔ بالخصوص ایسے انسان دوست کرداروں اور واقعات کو سامنے لایا جائے جو معاشرے میں امید، محبت، بھائی چارے اور انسانیت کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔ میاں خرم شہزاد اور ساجد احمد نے کہا کہ ہم اپنے تمام ورکنگ صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس کی محنت، جدوجہد اور پیشہ ورانہ خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ صحافت سے وابستہ افراد اپنی ذمہ داریوں کو مزید احسن انداز میں ادا کرتے ہوئے معاشرے میں مثبت تبدیلی، شعور اور انسانی اقدار کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک صحافی کا قلم اور ایک فوٹو جرنلسٹ کا کیمرہ، دونوں معاشرے کی سچائی کو محفوظ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ قلم حقائق کو الفاظ دیتا ہے اور کیمرہ حقیقت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں