noon league hukoomat mein geo faide mein raha 379

جیونیوزکی پیمرا سے غلط بیانی، جواب جمع کرادیا۔۔

جیو نیوز نے پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس کو آگاہ کیا ہے کہ حساس ڈاکیومینٹری بنانے اور اس کو پری ویو کرنے والے افراد کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔پیمرا کی جانب سے جیو نیوز کی معطلی کے سلسلے میں کونسل آف کمپلینٹس کے سامنے سماعت کے دوران، جیو نیوز کی لائسنس ہولڈر کمپنی کی طرف سے سپریم کورٹ کے وکیل صائم ہاشمی نے انتظامیہ کی جانب سے غلطی کا غیر مشروط اعتراف کیا اور غیر مشروط معذرت بھی کی۔جیو نیوز کی نمائندگی کرتے ہوئے صائم ہاشمی اور ہائی کورٹ کے وکیل ارباز خان نےکونسل کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات بھی شیئرکیں جن میں بتایا گیا کہ جیو نیوز کی انتظامیہ نے ایک فوری انکوائری کے بعد ڈاکیومینٹری بنانےکے ذمہ دار شخص اور ڈاکومینٹری پری ویو کرنے والی ایڈیٹوریل کمیٹی کے رکن کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔صائم ہاشمی ایڈووکیٹ نے کونسل کو بتایا کہ مستقبل میں اس قسم کی کسی بھی غلطی کے امکان کو کم سےکم کرنےکے لیے جیو نیوز کی انتظامیہ نے ایک عالم دین کو اپنی ایڈیٹوریل کمیٹی کا حصہ بنانےکا فیصلہ کیا ہے جو نشر کیے جانے والے حساس مذہبی مواد پر نظر رکھ سکیں اورمستقبل میں کسی بھی غلطی کو روک سکیں۔ جیو نے پیمرا کے نوٹیفکیشن سے قبل ہی اس ڈاکیومینٹری کو دوبارہ نشر ہونے سے فوری روک دیا تھا اور اس مواد کو ڈیجیٹل میڈیا سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔ دوسری طرف پپو نے انکشاف کیا ہے کہ جیونیوز پر یوم عاشور پر چلنےوالی ڈاکیومنٹری سفر عشق کے حوالے سے جو کچھ بھی آن ائر ہوا، اس کی ذمہ داری جیو نے دو ایسے افراد پر ڈال دی ہے، جن کا کام ڈاکیومنٹری بنانا یا ڈاکیومنٹری کی پری ویو کرنا نہیں تھا، جیو نے جن دو لوگوں سے زبردستی ریزائن لئے وہ عرصہ بیس بائیس سال سے جیو کے ملازم ہیں اور ماضی میں کبھی ان سے ایسا کوئی بلنڈر نہیں ہوا، پپو کے مطابق اس سارے معاملے میں جیو انتظامیہ صرف تین سوالوں کے جواب دے تو ذمہ دار کا تعین آسانی سے کیا جاسکتا ہے؟ کیا جیونیوز پر کسی بھی پروگرام کے چلنے کا ذمہ دار پروگرامنگ ہیڈ نہیں ہوتا؟ اور کیا یوم عاشور پر چلنے والی ڈاکیومنٹری سفرعشق کو سنسر کمیٹی کی جگہ پہلے ڈاکیومنٹری کو پری ویو ڈاکیومنٹری ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ کو نہیں کرنا چاہیئے تھا؟ اور تیسرا اور آخری سوال، یہ ڈاکیومنٹری سنسرکمیٹی کے پاس اس کے آن ائر ہونے سے صرف ایک گھنٹے پہلے کیوں بھیجی گئی تھی؟؟پپو کا مزید کہنا ہے کہ قطع نظر اس کے ،کہ غلطی کس قدر سنگین تھی، ‘سفر عشق’ کتنے لوگوں نے دیکھا ہوگا؟ جیو نیوز کی بندش نہ ہوتی تو کتنے لوگوں کو اس غلطی کا پتا ہوتا؟ کیا ایسے کیسز میں کارروائی سے پہلے نقارہ’ بجانا ضروری ہے؟ اب اگر کوئی دل جلا اپنی بھڑاس نکال گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا تادیبی کارروائی دور اندیش لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہیئے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں