press club mein eid beautician camp 174

گورننگ باڈی کی سابق خاتون ممبر بھی اسکروٹنی کی زد میں آگئیں۔۔۔

لاہور کی خاتون رپورٹر اور صحافی روبا عروج نے اپنی ملازمت کے خاتمے، پیشہ ورانہ مشکلات اور لاہور پریس کلب کی جانب سے جاری کیے گئے اسکروٹنی نوٹس کے پس منظر میں صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ورکنگ جرنلسٹس کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے تو پھر انتخابات اور فنڈز کے حصول کے موقع پر انہی صحافیوں کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے۔روبا عروج نے سوشل میڈیا پر جاری اپنی ایک تفصیلی تحریر میں بتایا کہ وہ گزشتہ 11 برس سے لاہور کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ رہی ہیں، لاہور پریس کلب کا انتخاب بھی جیت چکی ہیں اور اس کی گورننگ باڈی کی رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی صحافتی برادری، بالخصوص ایسے صحافیوں کے ساتھ کچھ حقائق شیئر کرنا چاہتی ہیں جو صرف صحافت کرتے ہیں اور پریس کلب کی سیاست کا حصہ نہیں بنتے۔روبا عروج کے مطابق گزشتہ سال انہیں ایک سرکاری ملازم کی جانب سے شدید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے منفی اثرات نہ صرف ان کے پیشہ ورانہ کام بلکہ ملازمت پر بھی مرتب ہوئے۔ تاہم انہوں نے اپنی تحریر میں مذکورہ سرکاری ملازم کی شناخت یا معاملے کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی عرصے میں ایک نیوزکو درپیش مشکل حالات کے باعث ادارے کے ایچ آرڈیپارٹمنٹ نے انہیں زبانی طور پر ملازمت سے فارغ کیے جانے سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے شعبے کے سربراہ لاہور پریس کلب کے سابق صدر تھے، تاہم ملازمت کے خاتمے کی اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے رابطہ کرکے صورتحال دریافت کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔روبا عروج نے مزید کہا کہ ایک نیوز کے ایچ آر نے انہیں تنخواہ کی ایڈوانس ادائیگی کی یقین دہانی بھی کرائی تھی، تاہم ان کے بقول ایک سال گزرنے کے بعد وعدہ کی گئی رقم کا صرف نصف حصہ ادا کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ملازمت ختم ہونے کے بعد انہیں بیرون ملک سفر اور بعد ازاں اپنی شادی کی مصروفیات کے باعث کچھ عرصے تک پیشہ ورانہ اور تنظیمی سرگرمیوں سے دور رہنا پڑا، جس کے نتیجے میں بعد میں لاہور پریس کلب کی جانب سے انہیں اسکروٹنی نوٹس جاری کیا گیا۔صحافی روبا عروج کا کہنا تھا کہ آج وہ اپنی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر بین الاقوامی سطح پر بہتر مواقع حاصل کررہی ہیں اور انہیں صحافت جاری رکھنے کے لیے لاہور پریس کلب کی رکنیت کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے پریس کلبوں اور صحافتی یونینز کے سیاسی کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ورکنگ جرنلسٹ کو اس کے مشکل وقت میں سہارا دینے کے بجائے اسے تنہا چھوڑنا اور اس کی تذلیل کرنا قابل قبول سمجھا جاتا ہے تو پھر پریس کلب اور یونینز اپنی سیاست بھی اپنی قوت پر کریں۔روبا عروج نے سوال کیا کہ صحافتی تنظیموں کو انتخابات کے دوران ووٹ حاصل کرنے اور مختلف مقاصد کے لیے فنڈز کے حصول کے وقت انہی ورکنگ جرنلسٹس کی ضرورت کیوں پڑتی ہے، جن کے مسائل اور پیشہ ورانہ مشکلات کے وقت مبینہ طور پر انہیں مناسب تعاون فراہم نہیں کیا جاتا۔ان کی یہ تحریر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لاہور پریس کلب میں اراکین کی رکنیت، اسکروٹنی کے عمل اور ورکنگ جرنلسٹس کی نمائندگی کے معاملے پر صحافتی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ روبا عروج کے الزامات اور مؤقف پرایک نیوز، لاہور پریس کلب یا متعلقہ صحافتی تنظیموں کا جواب اس تحریر میں شامل نہیں، اس لیے ان کے دعوؤں کو ان کا ذاتی مؤقف تصور کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں