نیوُ ٹی وی کی کم تجربہ کار خاتون ڈپٹی بیورو چیف برسوں کی تجربہ کار خاتون اسائنمنٹ ایڈیٹر کے استعفی کی وجہ بن گئیں۔سوشل میڈیا پر جاری آڈیو کے مطابق نیو ٹی وی انتظامیہ نے حال ہی میں اسلام آباد بیورو کی ایک سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر کو نوکری سے استعفی دینے پر مجبور کردیا ، خاتون اسائنمنٹ ایڈیٹر گزشتہ نو برس سے ادارے کیساتھ منسلک تھیں ان کے آڈیو پیغام کے مطابق ادارے کے چیرمین کو انکی اس مجبوری کا علم تھا کہ وہ اکیلی گھر چلانے والی خاتون ہیں ،فیس بک پر جاری خاتون اسائنمنٹ ایڈیٹر کے آڈیو بیان کےمطابق ان کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوا جب ایک کم تجربہ کار رپورٹر کو ادارے میں ڈپٹی بیورو چیف کی ذمہ داروں سونپی گئیں ، آڈیو کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیو ٹی وی انتظامیہ اس نوزائیدہ رپورٹر کے ذریعے نا صرف بیورو چیف کو قابو کرنا چاہتی تھی بلکہ نیوز روم پر بھی غیر معمولی اختیار سونپ کر اس کم تجربہ کار مگر منظور نظر رپورٹر کے ذریعے کچھ اہم اہداف حاصل کرنا چاہتی تھی جس کا پہلا شاخسانہ ایک خاتون اسائنمنٹ ایڈیٹر کا مبینہ جبری استعفے کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے۔مبینہ جبری برطرف اسائنمنٹ ایڈیٹر کی آڈیو کے مطابق جس نوزائیدہ رپورٹر کو ڈپٹی بیورو چیف لگایا گیا اس نے ان بنیادی دفتری امور میں بے جا مداخلت کی جن پر ادارہ پہلے سے آگاہ تھا اور کبھی اس بارے سختی نہیں کی گئی تھی جیسے کہ اسائیمنٹ ایڈیٹر کو صبح کی شفٹ کیلئے مجبور کیا گیا جب کہ وہ ایک عرصے سے دن کی شفٹ پر خدمات سرانجام دے رہی تھیں ، اس کے علاوہ ڈپٹی بیورو چیف کا رویہ غیر پیشہ وارانہ اور ہتک آمیز رہنے کی بھی تصدیق کی گئی ہے ۔تاہم یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شفٹ کے اوقات کار کے نئے شیڈول پر مستعفی اسائیمنٹ ایڈیٹر مطمئن تھیں اور کم از کم ایک ماہ تک اس نئے شیڈیول پر کام کرتی رہی ہیں ۔
حالیہ واقعے کے پس منظر میں ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی بیورو چیف کی تعیناتی کےساتھ ہی اسلام آباد بیورو میں نیو کے بیورو چیف کے اختیارات محدود ہو گئے تھے اور شام 7 بجے کے پروگرام سے بھی انہیں کچھ عرصے تک محروم رکھا گیاتھا، تاہم نیو اسلام آباد کے بیوروچیف نے اپنی بیٹ کے اثر و رسوخ کے ساتھ شام کے پروگرام کی اپنی اسکرین پر واپسی کو اپنے ذرائع سے ہی دوبارہ یقینی بنوا لیا تھا۔مبینہ طور پر جبری مستعفی اسائنمنٹ ایڈیٹر نے اپنی آڈیو میں اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ 9 سال میں ان کے تجربے اور قابلیت کے باجود ایک مرتبہ بھی انکی تنخوا نہیں بڑھائی گئی جبکہ بطور انٹرن ادارے میں شمولیت اختیار کرنے والی کم تجربہ کار رپورٹر کی تین سال میں تین دفعہ تنخواہ بڑھائی گئی جبکہ اسے ڈپٹی بیورو چیف کے عہدے پر بھی تعینات کرکے ادارے کے تجربہ کار افراد کو ذہنی اذیت اور پیشہ وارانہ مشکلات میں دھکیل دیا گیا ۔
نیو کے اندورنی حالات سے واقف اسلام آباد کے ڈیسک ایڈیٹرز میں یہ بات گردش کرتی رہی ہے کہ نیو ٹی وی میں ادارہ جاتی سازشیں اور جبری برطرفیوں کی روایت پرانی ہے ، ادارے کے موجودہ بیورو چیف نیو کی پرانی ٹیم میں ہونے کے باعث ادارے کے پہلے بیورو چیف کامران خان کے بعد دوسرے بیورو چیف کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں تاہم انہی کیساتھ ان کے ایک رپورٹر ساتھی کو ڈپٹی بیورو چیف بنایا گیا تو ان (موجودہ بیوروچیف )کی اپنے ڈپٹی بیورو چیف کے درمیان کبھی نہیں بن پائی اور انجام یہ ہوا کہ انہیں دوبارہ مکمل بیورو چیف بنایا گیا جبکہ ان کے سابق ساتھی (ڈپٹی بیورو چیف ) بول ٹی وی چلے گئے ۔واضح رہے موجودہ بیورو چیف نے اپنی مدت کے دوران اپنے رپورٹنگ دور کے دو انتہائی سینئرز کو کام نا کرنے اور ادارے کی ضرورت نا رہنے کی وجہ قرار دیگر سال 2023 میں نوکریوں سے برطرف کیا تھا جن میں ایک فنانس کے ماہر رپورٹر کچھ عرصہ بے روزگار رہنے کے بعد جی ٹی وی چلے گئے تھے جبکہ خارجہ امور کے ماہر رپورٹر تاحال بے روزگار ہیں ۔ایک اسائنمنٹ ڈیسک ایڈیٹر کے مطابق نیو کے موجودہ بیورو چیف نے نجی گفتگو میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ انکے اقدامات انکے ذاتی نہیں بلکہ ادارہ جاتی پالیسیوں کے تسلسل میں تھے ، تاہم ادارے کے پرانے ملازمین نے اس بات پر بارہا افسوس کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ بیورو چیف اپنے ہی دو انتہائی سینئر ساتھیوں کی برطرفی کو کیوں روک نہیں پائے تھے ۔ذرائع نے نیو ٹی وی کی انتظامی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دنیا نیوز سے سینئر رپورٹر کامران خان جب نیو کے پہلے بیورو چیف بنےتھے تو کوئی ڈپٹی بیورو چیف نہیں تھا ، ان کے جانے کے بعد موجودہ بیورو چیف کو بیورو چیف بنایا گیا تھا ،، مگر کچھ عرصے تک ان سے نیوز کے معاملات سنبھل نہیں پا رہے تھے تو انکے ایک رپورٹر ساتھی کو ڈپٹی بیورو چیف لگایا گیا تھا،، جن کے بول ٹی وی جانے کے بعد موجودہ چیف اکیلے رہے ،، نیوز روم کے معاملات خراب ہوئے اور ادارے کو ڈیجیٹل کا کام درکار تھا تو ادارے نے ایک تین سالہ تجربہ کار رپورٹر کو ڈپٹی بیورو چیف لگایا گیا۔
364