20

فاضل جمیلی کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ایف یوجےدستور۔۔۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(دستور ) کے صدر حاجی محمد نواز رضا اور سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ نے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کو میر شکیل الرحمان کی طرف سے بھیجے گئے قانونی نوٹس کی مذمت کی ہے۔ایک بیان میں پی ایف یو جے کے رہنماوں نے کہا کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے ورکرز کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔پی ایف یو جے کے رہنماوں نے یہ بھی کہا کہ ورکرز کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے والے، اپنے جرائم کی نشاہندہی کرنے والوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پی ایف یو جے (دستور) کارکنان کے مفاد میں لڑی جارہی اس جنگ میں میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کے ساتھ کھڑی ہے۔ دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکرٹری ریحان خان چشتی اور مجلس عاملہ نے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کو جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی جانب سے بھجوائے گئے قانونی نوٹس کی شدید، دوٹوک اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے۔کے یو جے دستور کے رہنماؤں نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے حقوق، آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے لیے آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں اور نہ ہی کسی منتخب صحافتی نمائندے کو قانونی نوٹس، دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے خاموش کرایا جا سکتا ہے۔ فاضل جمیلی کو جاری کیا گیا نوٹس صرف ایک فرد کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں بلکہ اسے صحافتی برادری کی اجتماعی آواز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب ملک بھر کے صحافیوں، میڈیا ورکرز اور آزادی صحافت کی جدوجہد کی ایک مضبوط علامت ہے۔ اس کے صدر کے خلاف اس نوعیت کا اقدام صحافی برادری کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ کل اگر میڈیا ورکرز کے معاشی اور بنیادی حقوق کی بات کرنے پر قانونی نوٹس بھیجے جائیں گے تو پھر صحافت میں حق اور سچ کی آواز کون بلند کرے گا؟کے یو جے دستور کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکرٹری ریحان خان چشتی اور مجلس عاملہ نے واضح کیا کہ صحافیوں کو قانونی نوٹسز اور دباؤ کے ذریعے خوفزدہ کرنے کا دور اب ختم ہونا چاہیے۔ قلم کو قانونی شکنجے میں جکڑنے اور صحافتی قیادت کو مرعوب کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب جنگ گروپ اور میر شکیل الرحمان مشکل حالات سے دوچار تھے تو کراچی پریس کلب اور صحافتی برادری نے جمہوری، آئینی اور صحافتی اصولوں کے تحت ان کے حق میں آواز بلند کی۔ آج اگر اسی صحافتی برادری کے منتخب نمائندے میڈیا ورکرز کے حقوق کی بات کر رہے ہیں تو جواب میں قانونی نوٹس بھیجنا انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول طرز عمل ہے۔کے یو جے دستور نے دوٹوک اعلان کیا کہ فاضل جمیلی اکیلے نہیں ہیں۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور، کراچی پریس کلب اور میڈیا ورکرز انکے ساتھ کھڑی ہیں اور آزادی صحافت پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ صحافیوں کی زبان بند کرنے، قلم روکنے اور حق کی آواز دبانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ آزادی صحافت کسی فرد، ادارے یا گروپ کی جاگیر نہیں بلکہ یہ صحافیوں اور عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے۔کے یو جے دستور نے جنگ گروپ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی کو جاری کیا گیا قانونی نوٹس واپس لے، بصورت دیگر پیدا ہونے والی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری نوٹس جاری کرنے والوں پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں