کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی سندھ کمیٹی نے اندرون سندھ صحافیوں کو درپیش آزادی صحافت کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے سندھ اس سلسلے میں خصوصی اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سندھ کمیٹی قاضی اسد عابد نے کی۔ شرکائے اجلاس نے سندھ میں آزادی صحافت کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں میڈیا پر براہِ راست دبائو نسبتا کم ہے اور حکومت کی جانب سے خبر شائع کرنے یا روکنے کے حوالے سے کسی منظم ”پریس ایڈوائس” کی روایت موجود نہیں۔ تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے موجودہ سازگار ماحول کو برقرار رکھا جائے اور مستقبل میں ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو میڈیا کی آزادی کو محدود کرے۔ اجلاس میں مختلف ارکان نے صحافیوں کے تحفظ سے متعلق معاملات پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ سندھ کمیشن فار پروٹیکشن آف جرنلسٹس کے تحت زیر سماعت مختلف مقدمات، صحافیوں کے خلاف تشدد اور قتل کے واقعات، تحقیقات کی رفتار اور انصاف کی فراہمی کے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکا ء نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کے تحفظ کے قانون پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ایسے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔اجلاس کے دوران سندھ کے نئے سیکریٹری اطلاعات کاشف گلزار شیخ اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ (سندھ) محمد یوسف کابورو نے خصوصی شرکت کی، چیئرمین سندھ کمیٹی قاضی اسد عابد، سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو اور دیگر شرکائے اجلاس نے دونوں مہمانوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر سی پی این ای کے اراکین نے سندھ حکومت کے ساتھ موجود مثبت ورکنگ ریلیشن شپ، سرکاری اشتہارات کی نسبتا بروقت ادائیگی اور شفاف طریقہ کار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اس حوالے سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر مثال قائم کی ہے۔اجلاس میں پرنٹ میڈیا کے نمائندوں نے سندھ حکومت کی توجہ اخبارات اور جرائد کے کئی اہم مسائل کی جانب مبذول کرائی۔ شرکا نے خصوصا گزشتہ کئی برسوں کے بقایا واجبات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا اور بتایا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ مکمل ہونے کے باوجود معاملہ مزید پیش رفت کا منتظر ہے۔ اس موقع پر درخواست کی گئی کہ آڈٹ رپورٹ کو جلد از جلد وزیر اعلی سندھ کے سامنے پیش کر کے بقایا ادائیگیوں کا عمل مکمل کیا جائے تاکہ شدید مالی مشکلات کا شکار اخباری صنعت کو ریلیف مل سکے۔اجلاس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران نیوز پرنٹ، طباعت اور دیگر پیداواری اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے اخبارات اور رسائل کی اشاعت متاثر ہو رہی ہے۔ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرنٹ میڈیا کے استحکام کے لیے خصوصی مالی معاونت، نیوز پرنٹ پر سہولتیں اور دیگر ممکنہ ریلیف پیکیجز پر غور کیا جائے۔ماہانہ جرائد کے نمائندوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اگرچہ اخبارات کو سرکاری اشتہارات مل رہے ہیں، تاہم پیریاڈیکلز اور ماہانہ جرائد کو اشتہارات میں مناسب حصہ نہیں ملتا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اشتہاری پالیسی میں ضروری ترامیم کر کے رجسٹرڈ جرائد کو بھی مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ اس شعبے کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔سیکریٹری اطلاعات سندھ نے شرکاء کے مسائل کو توجہ سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ بقایا ادائیگیوں، اشتہاری پالیسی، پیریاڈیکلز کے معاملات اور دیگر انتظامی مسائل پر متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد جلد عملی پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے سی پی این ای کے وفد کو آئندہ ہفتے اپنے دفتر میں تفصیلی اجلاس کی دعوت بھی دی تاکہ تمام مسائل کا قابلِ عمل حل تلاش کیا جا سکے۔اجلاس کے دوران سی پی این ای کی مرکزی قیادت کی وفاقی وزیر اطلاعات کے ساتھ حالیہ ملاقات سے بھی شرکا ء کو آگاہ کیا گیا، جس میں وفاقی اشتہارات کی ادائیگی، رجسٹریشن، اے بی سی (Audit Bureau of Circulation) اور میڈیا انڈسٹری کو درپیش دیگر مسائل زیر بحث آئے تھے۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر میڈیا سے متعلق تمام پالیسی امور میں سی پی این ای کو باقاعدہ مشاورت کا حصہ بنایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر سی پی این ای سندھ کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزادی صحافت، صحافیوں کے تحفظ، میڈیا کی معاشی بقا اور اخبارات و جرائد کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ مثبت اور تعمیری مکالمہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ صحافتی اداروں کے درمیان اتحاد، پیشہ ورانہ یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں چیئرمین قاضی اسد عابد اور ڈپٹی چیئرمین سید حامد حسین عابدی کے ساتھ سیکریٹری جنرل سی پی این ای غلام نبی چانڈیو (روزنامہ پاک، کراچی)، اعجاز الحق(روزنامہ ایکسپریس، کراچی)، انور ساجدی(روزنامہ انتخاب، کوئٹہ)، فنانس سیکریٹری عارف بلوچ (روزنامہ بلوچستان ایکسپریس، کوئٹہ)، محمد عثمان(ماہنامہ کرن ڈائجسٹ گروپ)، حسن ناصر(روزنامہ عوامی آواز، کراچی)، مقصود یوسفی (روزنامہ نئی بات، کراچی)، حسن عباس(روزنامہ ایکسپریس، کراچی)، عبدالسمیع منگریو (روزنامہ انڈس پوسٹ، کراچی)، محمد سراج(روزنامہ جہان پاکستان، کراچی)، علی حمزہ افغان(روزنامہ امت، کراچی)، شیر محمد کھاوڑ (روزنامہ اپیل، کراچی)، سلمان قریشی(ماہنامہ نیارخ، کراچی)، سیکریٹری انفارمیشن منز ہ سہام(ماہنامہ دوشیزہ ڈائجسٹ، کراچی)، محمود عالم خالد (ماہنامہ فروزاں، کراچی)، محمد قاسم (روزنامہ بھٹائی چینل، کراچی)، طارق کامران(روزنامہ ٹائمز، کراچی)، مدثر عالم(پاکستان ٹوڈے کراچی)، عمران کورائی(روزنامہ واکا، کراچی)، فراز احمد چانڈیو (روزنامہ سندھ ٹائمز، حیدرآباد)، شاہد ساٹی (روزنامہ وطن گجراتی، کراچی)، عاطف صادق شیخ (روزنامہ آس، حیدرآباد)، وحید میمن (روزنامہ پرلا، حیدرآباد)، رحمان سکندر ملک (روزنامہ پروان، کراچی) اور رفاقت تنولی(روزنامہ برکھا، کراچی) موجود تھے۔
107
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل