دنیا نیوز کے ہیڈ آفس میں نیوزروم کو ایک عرصہ سے اکاؤنٹ افسران کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔۔ یہاں کا ایم ڈی پہلےسے ہی ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہے۔ پپو کا کہنا ہے کہ 2017 میں خرم کلیم بطور ڈی این مستعفی ہوئے تو اس کے بعد کوئی ڈائریکٹر نیوز نہیں رکھا گیا بلکہ اس وقت کے اکاؤنٹ افسر سے ایچ آر ہیڈ بنائے گئے خان صاحب کو سی او او بنا کر نیوز روم میں ڈی این کے آفس میں بٹھا دیا گیا اور اسی سے ڈی این کا کام لیا جانے لگا۔ طویل عرصے بعد جب ایم ڈی اورخان صاحب کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے تو خان صاحب نے سنونیوز کا رخ کرلیا۔۔ اس کی جگہ جسے لایاگیا اسے بھی اکاؤنٹ افسر سے پروموٹ ہو کر ایچ آر ہیڈ اور پھر سی او او بنا دیا گیا۔ مبینہ طور پر اسی سابق اکاؤنٹ افسر سے اب ڈائریکٹر نیوز کا کام لیا جارہا ہے۔۔ دفتر کے سینئر لوگوں کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ افسر ادارے کی اہم شخصیت کا چہیتا اور اس کا قریبی رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔ نیوز روم میں کوئی کنٹرولر نیوز بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ اسائنمنٹ ڈیسک کے ایک صاحب کوپہلے ای پی بنا کر مارننگ شفٹ کا انچارج بنایا گیا پھر اسے کنٹرولر کے عہدے پر ترقی تو دے دی گئی۔ لیکن ذمہ داریاں نہیں بدلیں۔ جبکہ ایوننگ شفٹ میں 2017میں نکالے گئے ایگزیکٹو پروڈیوسر کو دوبارہ اسی پرانی تنخواہ پر ہائر کرکے انچارج بنا دیا گیا ہے۔اور اب حالت یہ ہے کہ مارننگ شفٹ کا انچارج جسے سی او او نے گالیاں دیں وہ مستعفی ہو کر چلا گیا جبکہ مارننگ شفٹ کے ہیڈ کو 60سال سے زائد عمر ہونے کی وجہ ایک ماہ کا نوٹس مل چکا ہے یوں مارننگ شفٹ بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ایوننگ شفٹ میں بھی تجربہ کار ای پی تو رکھ دیا لیکن وہ بھی ٹرینی لڑکوں سے کام چلانے پر مجبور ہیں۔ پپو کا کہنا ہے کہ جب تک نیوز روم میں ایچ آر اور ایم ڈی کی مداخلت کم نہیں ہوگی اور پروفیشنلز کو معقول معاوضے پر ہائر کر انہیں مناسب ماحول فراہم نہیں کیا جائے گا دنیا نیوز کے حالات سدھرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ چیئرمین دنیا گروپ کو اس معاملے کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے ورنہ ادارے کی تباہی زیادہ دور نہیں۔۔
1,450
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل