224

کیمرہ مینوں کی بے عزتی، اے سی جے فی الحال مشاورت میں مصروف ۔۔

ایم کیو ایم حقیقی کے حالیہ جلسے میں پیش آنے والے واقعے کا اے سی جے کی کابینہ سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ معاملہ کیمرہ مین کے لیے قائم کیے گئے اسٹیج سے شروع ہوا، جس کے بعد ٹی وی کوریج نہ دینے اور فوٹیج ایجنسیوں کو فراہم کرنے جیسے بیانات بھی سامنے آئے۔اے سی جے اس حوالے سے ایم کیو ایم حقیقی کی قیادت، بالخصوص جناب آفاق احمد، سے بھی بات کرے گی اور ان کی توجہ اس اہم حقیقت کی جانب دلائے گی کہ کسی بھی پروگرام یا جلسے میں آنے والا کیمرہ مین صرف اپنے ادارے یا چینل کا ملازم ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف اپنی پیشہ ورانہ ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے ریکارڈنگ کرنا ہوتی ہے۔ نہ کیمرہ اس کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے، نہ ریکارڈ شدہ فوٹیج اس کی ملکیت ہوتی ہے، اور نہ ہی اسے یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ کون سی فوٹیج نشر ہوگی یا کس کو فراہم کی جائے گی۔ ایسے تمام فیصلے متعلقہ ادارے یا چینل کی انتظامیہ کرتی ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ جلسوں میں کارکنوں کی نظر میں سب سے نمایاں کیمرہ مین ہی ہوتے ہیں، جس کے باعث قیادت کے جذباتی یا سخت بیانات کارکنوں میں اشتعال پیدا کر سکتے ہیں اور اس کا براہِ راست نشانہ بے قصور کیمرہ مین بن سکتے ہیں۔ لہٰذا ہم تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے بیانات میں احتیاط برتیں اور میڈیا ورکرز، خصوصاً کیمرہ مینوں، کی حفاظت اور عزت کو یقینی بنائیں۔اے سی جے اس معاملے پر اپنے سینئر کیمرہ مین ساتھیوں سے مشاورت کر رہی ہے۔ تمام حقائق سامنے آنے، صورتحال کا مکمل جائزہ لینے اور کسی بھی قسم کی سازش یا غلط فہمی کا حصہ بننے سے بچتے ہوئے، مشترکہ لائحۂ عمل اور آئندہ کے فیصلوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔اے سی جے کیمرہ مینوں کے تحفظ، عزت اور پیشہ ورانہ آزادی کے لیے ہمیشہ اپنی ذمہ داری ادا کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں